- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
1: شیخ محمد عابد سندھی رحمہ اللہ کون تھے؟ ان کا زمانہ حیات کون سا ہے؟ نیز ان کے حالات زندگی کے بارے میں بھی بتائیں!
2: ان کا فقہی مذہب کیا تھا؟ اور کیا ان کی کوئی تصنیف یا تالیف بھی موجود ہے؟ اگر ہے تو اس کی بھی نشاندہی فرمائیں!
4: شیخ محمد عابد سندھی کا شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی کے ساتھ استاذ یا شاگرد ہونے کا کوئی تعلق ہے؟ یا یہ دونوں معاصر رہے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
بالترتیب جوابات ملاحظہ ہوں:
[۱]: شیخ سندھی رحمہ اللہ کے حالاتِ زندگی (نزھۃ الخواطر لعبد الحئی الحسنی: ج7 ص 487 – 491، البدر الطالع للشوکانی: ج2 ص227، 228، مقدمہ انوار الباری از سید احمد رضا بجنوری: ج1 ص393، مقدمۃ المواھب اللطیفۃ شرح مسند الامام ابی حنیفۃ للعلامۃ الشیخ عابد السندھی، الأعلام للزرکلی: ج6 ص179، 180)
سر زمینِ سندھ میں کئی اکابر واسلاف ایسے گزرے ہیں جو اسلامی علوم و فنون میں اپنی مثال آپ تھے۔ شیخ محمد عابد سندھی الانصاری رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی قابل قدر ہستیوں میں سے ایک ہیں۔ آپ کا شمار تیرہویں صدی ہجری کے علمائے سندھ میں ہوتا ہے۔ آپ اپنے وقت کے عظیم عالم، محدث اور فقیہ تھے۔ آپ نے سر زمینِ عرب میں دینی علوم حاصل کیے اور زندگی کا بیشتر حصہ عرب ہی میں گزارا۔
آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے: شیخ محمد عابد بن شیخ احمد علی بن شیخ محمد مراد بن حافظ محمد یعقوب بن محمود الایوبی الانصاری الخزرجی۔ آپ کا سلسلہ نسب مشہور صحابیِ رسول حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ نسبت ”الایوبی“ صحابی حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ اور نسبت ”الانصاری الخزرجی“ انصاری قبیلہ خزرج کی وجہ سے ہے کیونکہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا تعلق بھی اسی قبیلہ سے تھا۔
شیخ محمد عابد سندھی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1190ھ میں صوبہ سندھ کے معروف شہر حیدر آباد کے قصبہ ”سیون“ میں ہوئی۔ آپ کے جد امجد شیخ محمد مراد بن حافظ محمد یعقوب الانصاری اپنے وقت کے بہت بڑے عالم تھے اور شیخ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی سندھی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں میں سے تھے۔ انہوں نے اپنے اہل وعیال کے ساتھ سندھ سے سر زمینِ عرب کی طرف ہجرت کی اور وہیں سکونت اختیار کر لی۔
شیخ عابد سندھی رحمۃ اللہ علیہ نے علومِ مروجہ کی تعلیم اپنے چچا شیخ محمد حسین بن محمد مراد سندھی سے حاصل کی۔ پھر چچا کے ساتھ ہی سن 1208 ہجری میں حجاز سے یمن تشریف لے گئے۔ آپ نے حجاز اور یمن کے کئی اہلِ علم سے علمی استفادہ کیا۔ آپ کے معروف اساتذہ علامہ عبد الرحمٰن بن سلیمان بن یحییٰ الشافعی، شیخ یوسف بن محمد بن العلاء المزجاجی الزبیدی الحنفی، شیخ علامہ محمد طاہر سنبل، مفتی عبد الملک القِلعی المکی اور شیخ صالح بن محمد بن نوح العمر الفُلانی رحمہم اللہ ہیں۔ علوم مروجہ کے حصول کے بعد آپ یمن کے مقام ”زبید“ میں مقیم ہوئے۔ ایک عرصہ تک آپ کا قیام یہیں رہا۔ اس کے بعد یمن کے شہر ”صنعاء“ تشریف لے گئے اور وہاں کے اہلِ علم سے استفادہ کیا۔ صاحبِ نیل الاوطار علامہ محمد بن علی الشوکانی کی خدمت میں بھی رہے اور ان سے استفادہ کیا جس کا ذکر علامہ شوکانی نے اپنی کتاب ”البدر الطالع“ میں کیا ہے۔
شیخ محمد عابد سندھی رحمۃ اللہ علیہ کے چچا فنِ طب میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ ان کی صحبت سے آپ بھی اس فن میں ماہر ہوئے۔ فنِ طب میں اسی مہارت کی وجہ سے حاکمِ صنعاء امیر منصور نے انہیں اپنا خاص طبیب مقرر کر لیا۔اسی زمانہ میں آپ نے حاکمِ صنعاء کے وزیر علی بن صالح العماری الصنعانی کی بیٹی سے نکاح کیا۔ صنعاء میں آپ کے علم وفضل کا بہت چرچا رہا۔
سن 1232ہجری میں امیرِ صنعاء نے آپ کو بطور سفیر حاکمِ مصر محمد علی پاشاکے دربار میں ہدایہ دے کر بھیجا۔ آپ بطورِ سفیر مصر میں قیام پذیر رہے جس کی وجہ سے سے وہاں بھی آپ کا تعارف وتعلق رہا۔ مصر کے شہر ”طابہ“ میں درس و تدریس اور وعظ و نصیحت کا سلسلہ جاری رہا لیکن آپ کا قیام وہاں زیادہ دیر نہ رہ سکا۔ لوگوں کی مخالفت ایسی شروع ہوئی کہ آپ کو مجبوراً یمن کے مقام ”حدیدہ“ آنا پڑا۔ ”حدیدہ“ میں بھی آپ کا قیام مستقل نہ ہو سکا۔ یہاں کے قاضی شیخ حسین بن علی الحازمی الزیدی کی مخالف اور بلاوجہ تشدد کی وجہ سے آپ کو کوچ کرنا پڑا۔ لہذا آپ اپنے آبائی وطن سندھ واپس تشریف لائے۔
آبائی وطن کے قصبہ ”نواری“ میں مختصر قیام کے بعد پھر بلادِ عرب جانے کا شوق بیدار ہوا تو آپ نے رختِ سفر باندھا اور مدینہ منورہ جا کر مقیم ہو گئے۔ یہاں والی مصر محمد علی پاشا کی طرف سے رئیس العلماء والقضاۃ کے منصب پر فائز ہوئے۔ آپ نے بقیہ زندگی عبادت وریاضت، علومِ نبوت کی نشر واشاعت، تصنیف و تالیف اور اقامتِ سنت میں گزار دی۔ یہی آپ کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔
خلقِ کثیر نے آپ سے علمی استفادہ کیا۔ آپ کے معروف تلامذہ میں شیخ محدث عبدالغنی دہلوی، شیخ الاسلام عارف اللہ بن حکمت اللہ الحنفی، شیخ ارتضیٰ علی خان العمری، شیخ جمال بن عبد اللہ بن شیخ عمر مکی الحنفی، شیخ داؤد بن سلیمان الشافعی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
آپ نے 17ربیع الاول 1257ھ بروز پیر مدینہ منورہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں بابِ عثمان کے سامنے سپرد خاک کیے گئے۔ انا للہ ونا الیہ راجعون۔
[۲]: فقہی مذہب، تصنیفات وتالیفات
شیخ محمد عابد سندھی الانصاری رحمۃ اللہ علیہ کا فقہی مذہب حنفی ہے جیسا کہ مورخین نے بھی ذکر کیا ہے اور آپ کی تصنیفات وتالیفات بھی اس پر شاہدِ عدل ہیں۔
قاضی محمد بن علی بن محمد بن عبد اللہ شوکانی(ت1250ھ) لکھتے ہیں:
وَصَاحِبُ التَّرْجَمَةِ لَهُ يَدٌ طُوْلٰى فِيْ عِلْمِ الطِّبِّ وَمَعْرِفَةٍ مُتْقِنَةٍ بِالنَّحْوِ وَالصَّرْفِ وَفِقْهِ الْحَنَفِيَّةِ وَأُصُوْلِهِ. ( البدر الطالع للشوکانی: ج2 ص227، 228)
ترجمہ: آپ (شیخ محمد عابد سندھی) علم طب میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے اور نحو، صرف، فقہ حنفی اور اس کے اصول میں اچھی مہارت کے حامل تھے۔
عصرِ قریب کے مورخ علامہ خیر الدین بن محمود بن محمد الزرکلی الدمشقی (1396ھ) شیخ عابد سندھی کے حالات میں لکھتے ہیں:
محمد عابد بن أحمد بن علي بن يعقوب السندي الأنصاري: فقيه حنفي، عالم بالحديث. ( الاعلام للزرکلی: ج6 ص179)
ترجمہ: محمد عابد بن احمد بن علی بن یعقوب سندھی انصاری ایک حنفی فقیہ اور حدیث کے عالم تھے۔
مورخ ہند علامہ عبد الحئی بن فخر الدین الحسنی الحنفی (ت1341ھ) نے بھی آپ کو حنفی فقیہ کے طور پر ذکر کیا ہے۔ (نزھۃ الخواطر : ج7 ص 488)
آپ کی اہم تصانیف یہ ہیں:
1: منحۃ الباری فی جمع روایات البخاری
2: ترتیب مسند الامام ابی حنیفۃ بروایۃ الحصکفی
3: ترتیب مسند الامام الشافعی
4: معتمد الالمعی المھذب فی حل مسند الامام الشافعی المرتب
5: طوالع الانوار شرح الدر المختار
6: المواہب اللطیفۃ شرح مسند الامام ابی حنیفۃ
7: شرح بلوغ المرام
8: شرح الفیۃ السیوطی فی مصطلح الحدیث
9: رسالۃ فی التوسل ونواعہ واقسامہ
10: الابحاث فی المسائل الثلاث
اس کے علاوہ بھی کئی کتب ورسائل آپ کے تحقیق رقم قلم سے زیبِ قرطاس ہوئے ہیں۔
[۳]: شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی کے ساتھ تعلق؟
شیخ محمد عابد سندھی انصاری کی ولادت سن 1190 ہجری میں اور شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی کی وفات سن 1206 ہجری میں ہوئی۔ شیخ عابد سندھی رحمۃ اللہ علیہ اگرچہ بچپن ہی میں حجاز تشریف لائے تھے لیکن شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی کے ساتھ ملاقات اور علمی استفادہ کا تذکرہ نہ آپ نے اپنی کسی کتاب میں کیا اور نہ ہی آپ کے کسی سوانح نگار نے اس کا ذکر کیا ہے۔ اس سے بہ ظاہر یہی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو شیخ نجدی سے تعلق تلمذ نہیں رہا۔البتہ شیخ عابد سندھی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”حصر الشارد فی اسانید محمد عابد“ میں جہاں اپنی اسانید واثبات جمع کی ہیں وہاں شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی کے فرزند شیخ عبد اللہ محمد بن عبدالوہاب نجدی کی سند کا بھی ذکر کیا۔ امام محب الدین احمد بن عبد اللہ الطبری (ت694) کی کتاب ”القرى لقاصد أم القرى“ کی سند ذکر کرتے ہوئے شیخ محمد عابد سندھی لکھتے ہیں:
”وأما کتاب القرى لقاصد أم القرى للمحب الطبری فأرویہ عن الشیخ عبد اللہ بن عبدا لوھاب النجدی عن أبیہ عن الشیخ محمد حیاۃ السندھی عن الشیخ عبدا للہ بن سالم البصری الخ“ (حصر الشارد فی اسانید محمد عابد: ص 410)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ محمد عابد سندھی نے شیخ عبد اللہ بن محمد بن عبد الوہاب نجدی سے استفادہ کیا ہے۔ علامہ محمد عبد الحئی بن عبد الكبیر الكتانی (ت1382ھ) نے بھی اس علمی استفادے کا ذکر اپنی کتاب ”فهرس الفهارس“ (فهرس الفهارس والأثبات ومعجم المعاجم والمشيخات والمسلسلات: ج1 ص364) میں کیا ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved