• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے کی تحقیق

استفتاء

“اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّیْنِ”   (کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے) کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟  میں نے اس کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایک تحریر پڑھی تھی اس تحریر میں یہ لکھا تھا کہ یہ حدیث نہیں ہے بلکہ من گھڑت ہے،  اس کا کوئی ثبوت نہیں  ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّیْنِ” کے الفاظ سے یہ حدیث مختلف کتابوں میں منقول ہے،بعض اَئمہ حدیث نےاسے ثابت ہی نہیں مانا ، اس لیے اسے غیر اصل اور  موضوع قرار دیا ہے۔

امام جلال الدین عبدالرحمٰن السیوطی رحمہ اللہ (ت: 911 ھ) اپنی کتاب میں یہ حدیث نقل فرماتے ہیں:

“حدثنا طريف بن سلمان أبو عاتكة قال سمعت أنس بن مالك عن النبي أطلبوا العلم ولو بالصين فإن طلب العلم فريضة على كل مسلم.
قال ابن حبان : باطل لا أصل له”

(اللآلئ  المصنوعۃ  فی الأحاديث الموضوعۃ: کتاب العلم ج1 ص 175)

ترجمہ:          طُرَیف بن سلمان ابو عاتکہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم طلب کرو اگرچہ چین جانا پڑے، بلاشبہ علم کا حصول ہر مسلمان پر فرض ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث باطل ہے، اس کی کوئی اصل نہیں۔

بعض محدثین کرام  کے نزدیک یہ حدیث ثابت  ہے  مگراس کی سندوں  میں مجروح   راوی ہیں ، اس لیے یہ حدیث    ضعیف ہے۔

امام شمس الدين ابوعبد الله محمد بن احمد  الذهبی رحمہ اللہ  (ت : 748ھ) اس کے حدیث کے ایک راوی طریف بن سلمان ابو عاتکہ کے حالات میں لکھتے ہیں:

طريف بن سلمان  أبو عاتكة، عن أنس.
قال أبو حاتم: ذاهب الحديث، وقال البخاري: منكر الحديث
 وقال النسائي: ليس بثقة، وقال الدارقطني وغيره: ضعيف.
قلت: هو صاحب حديث: اطلبوا العلم ولو بالصين، وهو بالكنية أشهر.

(ميزان الاعتدال فی  نقد الرجال: رقم الترجمۃ 3984)

ترجمہ:          طریف بن سلمان ابوعاتکہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث نقل کی ہے۔امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے اس کے بارے فرمایا کہ یہ شخص  حدیث کو ضائع (خراب)کرنے والا  ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا یہ منکَر الحدیث ہے۔ امام نَسائی رحمہ اللہ نے  فرمایا یہ ثقہ نہیں ہے، اور امام دار قطنی اور دیگر محدثین کرام نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ میں(امام ذہبی رحمہ اللہ) کہتا ہوں  کہ یہ طریف بن سلمان ابوعاتکہ وہی ہے جس نے “اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّیْنِ” بیان کی ہے، اور یہ اپنے نام کی بہ نسبت اپنی کنیت سے زیادہ شہرت رکھتا ہے۔

امام ابو بكر احمد بن الحسین بن علی بن موسىٰ البیہقی (ت458ھ)   نے اپنی کتاب ”شعب الایمان“ میں ان الفاظ سے یہ حدیث نقل فرمائی ہے اس پر یہ تبصرہ فرمایا:

ثنا أبو عاتكة عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
 اطلبوا العلم و لو بالصين فإن طلب العلم فريضة على كل مسلم
 هذا الحديث شبه مشهور و إسناده ضعيف و قد روي من أوجه كلها ضعيفة.

                                                (شعب الایمان: رقم الحدیث  1663)

ترجمہ:          طریف بن سلمان ابو عاتکہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم طلب کرو اگرچہ چین جانا پڑے، بلاشبہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ یہ حدیثِ مشہور کے مشابہ ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔ اور یہ حدیث مختلف سندوں سے روایت کی گئی ہے(مگر) سب کے سب ضعیف ہیں۔

فتاویٰ دارالعلوم دیوبند میں  فتویٰ نمبر 935-762 اور جواب نمبر 60106 کے تحت  مرقوم ہے:

”یہ روایت مختلف طرق سے مروی بعض ضعیف ہیں اور بعض محدثین نے اس کے موضوع ہونے کی بھی بات کہی ہے؛ لیکن متن مشہور ہے رواة اگرچہ (ضعیف) ہیں،  لہٰذا مختلف طرق سے منقول ہونے کی وجہ سے بے ا صل نہیں کہہ سکتے۔“

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس روایت کو علی الاطلاق موضوع وباطل نہ کہا جائے البتہ چونکہ اس کی سندوں میں ضعیف روات پائے جاتے ہیں اس لیے اسے ضعیف حدیث قرار دیا جائے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved