- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
پوچھنا یہ ہے کہ ناخن بڑھا سکتے ہیں یا نہیں ؟ نیز ناخنوں کے بارے میں یہ بھی رہنمائی فرما دیں کہ بڑے ناخن رکھنے سے کیا قباحتیں اور خرابیاں لازم آتی ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناخن کاٹنے کو فطرت کا حصہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الْفِطْرَةُ خَمْسٌ أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ وَالاِسْتِحْدَادُ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ.”
(سنن ابی داؤد:باب فی اخذ الشارب، رقم الحدیث 4200)
ترجمہ: فطرت میں پانچ چیزیں شامل ہیں، یا پانچ امور فطرت کا حصہ ہیں: ختنہ کرنا، زیرِ ناف بال صاف کرنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا، ناخن کاٹنا اور مونچھیں کاٹنا۔
ایک اور حدیث مبارک میں دس چیزوں کو امورِ فطرت میں شمار کیا گیا ہے۔
ناخن جب ذرا بڑے ہو جائیں تو اتنی حد تک کاٹ لینا چاہیے جس سے انگلی کو تکلیف نہ ہو۔ ناخن اور اسی طرح زیرِ ناف بال، بغلوں کے بال اور مونچھیں ہر آٹھ دس دن بعد کاٹ لیے جائیں۔ یہ بہت بہتر ہے۔ اگر کسی مجبوری یا مصروفیت کی وجہ سے نہ کاٹ سکیں تو زیادہ سے زیادہ چالیس دن تک اجازت ہے، اس کے بعد نہ کاٹنا مکروہ تحریمی ہے جس پر گناہ ملے گا۔
ناخن وغیرہ بڑھانے میں بہت سی قباحتیں ہیں مثلاً:
1: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت لازم آئے گی ۔
2: شریعت کی نگاہ میں یہ عمل انتہائی نا پسندیدہ ہے جس کی وجہ سے گناہ ملے گا۔
3: ان چیزوں کا بڑھانا نظافت و طہارت کے تقاضوں کے منافی ہے۔
4: انسانی شرافت ، وقار اور عظمت کےمنافی ہیں۔ اسی لیے ہر معزز، باشعور ، سنجیدہ اور تعلیم یافتہ فرد اس کو معیوب سمجھتا ہے۔
5: طِبّی طور پر بھی ان کا بڑھانا نقصان دِہ ہے۔ مونچھیں بڑی ہوں تو کھانے پینے میں کراہت ہوتی ہے اور چہرہ بھی بدنما لگتا ہے۔ اگر ناخن بڑے ہوں تو عموماً ان میں مَیل اور جراثیم جمع ہو جاتے ہیں، جو کھانے کے ساتھ اندر جا کر مختلف اَمراض کا سبب بنتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے ناخن بڑے نہ رکھے جائیں، یہ حکم مرد اور خواتین دونوں کے لیے ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved