- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ عورت کسی غیر محرم سے نا جائز تعلق قائم کر لے اور وہ دونوں مباشرت بھی کر لیں تو کیا اس سے نکاح فسخ ہو جاتا ہے؟ کیا اس گناہ کی وجہ سے تجدیدِ نکاح لازم آتا ہے یا نہیں؟ از راہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
بدکاری کرنا ، کرانا بہت سخت گناہ ہے، قرآن کریم میں بدکاری کے قریب پھٹکنے سے بھی منع کیا گیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا﴾ (سورۃ الاسراء: 32)
ترجمہ: اور زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو، وہ یقینی طور پر بڑی بے حیائی اور بے راہ روِی ہے۔
زنا کے قریب تک نہ پھٹکنے کا معنی یہ ہے کہ ایسے اسباب و ذرائع بھی اختیار نہ کیے جائیں جو بدکاری کا سبب بنتے ہوں، جیسے بدنگاہی کرنا، نا محرم مرد و زن کا اختلاط اور تنہائی اختیار کرنا وغیرہ۔
اگر کسی سے زنا جیسا قبیح اور گھناؤنا فعل سرزد ہو جائے تو اس سے نکاح نہیں ٹوٹتا، عورت اپنے شوہر کے نکاح ہی میں رہتی ہے اور ان پر تجدید نکاح بھی لازم نہیں۔ البتہ جو کام ضروری اور لازم ہے وہ یہ کہ فوراً صدقِ دل سے سچی توبہ کر کے آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کیا جائے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved