- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کے ترکہ میں ایک مکان تھا جسے ہم نے بیالیس لاکھ روپے میں فروخت کر دیا ہے۔ والد صاحب کے ورثاء میں پانچ بیٹے ، چار بیٹیاں، اور ایک بیوہ(ہماری والدہ) ہیں۔ والد مرحوم نے میری والدہ کو وصیت کی تھی کہ جب یہ مکان بیچو تو اس رقم میں سے ایک لاکھ روپے کسی مدرسہ میں ضرور دیجیے گا۔
اب آپ سے دو باتوں کی وضاحت مطلوب ہے:
ایک ……. تو یہ بتا دیجیے کہ ہم ورثاء میں سے ہر فرد کا حصہ مکان کی قیمت میں کتنا بنتا ہے٫
دوسرا ……. یہ کہ ہمیں اپنے والد مرحوم کی وصیت کو پورا کرنا چاہیے یا نہیں؟ کیوں کہ ورثاء میں سے کچھ کا کہنا یہ ہے کہ وصیت کو پورا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
شریعت مبارکہ نے ہر شخص کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے مال میں کوئی جائز وصیت کرنا چاہے تو کر سکتا ہے اوریہ وصیت اس کےمال میں سے ایک تہائی حصہ میں نافذ ہو گی۔ ایک تہائی مال میں جائز وصیت کو پورا کرنا ورثاء پر لازم ہے۔ اگر وہ اس وصیت کو نافذ نہ کریں گے تو گناہ گار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا سخت مؤاخذہ ہو گا۔
اگر کوئی شخص ایک تہائی حصہ سے زائد مال میں وصیت کرے تو ورثاء فقط ایک تہائی مال میں وصیت پورا کرنے کے پابند ہوں گے، ایک تہائی حصہ سے زائد مال میں ان کو اختیار ہو گا یعنی زائد مال میں وصیت کا نفاذ بالغ ورثاء کی رضامندی پر موقوف ہو گا۔ اگر وہ راضی ہوں تو نافذ کر دیں، راضی نہ ہوں تو ان پر کوئی گناہ نہ ہو گا۔ نیز یہ بھی واضح ہو کہ مرحوم پر اگر قرض ہو تو پہلے اسے ادا کیا جاتا ہے، اس کے بعد باقی ترکہ میں سے ایک تہائی مال میں وصیت کو پورا کیا جاتا ہے۔
آپ کے والد مرحوم اگر یہ کہتے کہ میرے اس مکان کی کل قیمت میں سے ایک تہائی رقم فلاں جائز کام میں صرف کر دینا تو یہ ان کا حق تھا اور اب آپ سب پر بیالیس لاکھ میں سے چودہ لاکھ کو وصیت کے مطابق استعمال کرنا لازم ہوتا۔ اس مرحوم نے تو آپ سب ورثاء کے ساتھ یہ مزید احسان کیا ہے کہ محض ایک لاکھ روپے میں وصیت کی ہے، باقی سارا مال آپ سب کے لیے چھوڑ دیا ہے۔
حیرت اس بات پر ہے کہ جو والد ساری زندگی اپنی ساری توانائیاں اپنی اولاد کی بہتری اور مستقبل کے لیے وقف کر دیتا ہے، مرنے کے بعد اسی اولاد پر اس کے چھوڑے ہوئے مال میں سے بھی کچھ خرچ کرنا ؛ ناگوار گزرتا ہے۔ حالانکہ حق تو یہ ہے اگر والدین وصیت نہ بھی کر سکیں تو اولاد ازخود ان کی طرف سے حسبِ استطاعت رقم کارِ خیر میں خرچ کر دے تاکہ ان کی آخرت کی منزل آسان ہو جائے۔
درج بالا تفصیل سے واضح ہوا کہ آپ کے والد مرحوم کی وصیت کو پورا کرنا آپ تمام ورثاء پر لازم ہے، جو وارث رکاوٹ بنے گا شرعاً گناہ گار ہو گا۔
بیالیس لاکھ میں سے ایک لاکھ روپے وصیت پورا کرنے کے لیے نکال لیے جائیں، باقی اکتالیس لاکھ کی تقسیم ایک بیوہ، پانچ بیٹوں اور چار بیٹیوں کے درمیان یوں ہو گی کہ کل رقم کے سولہ حصے ہوں گے، آٹھواں حصہ بیوہ کو، اکہرا حصہ ہر بیٹی کو اور دوہرا حصہ ہر بیٹے کو ملے گا۔ تفصیل حسب ذیل ہے:
اکتالیس لاکھ (4100000)میں سے بیوہ کو پانچ لاکھ ایک ہزار دو سو پچاس (501250) ہر بیٹی کو دو لاکھ پانچ ہزار چھ سو پچیس (205625) اور ہر بیٹے کو پانچ لاکھ ایک ہزار دو سو پچاس (501250) روپے ملیں گے۔
نوٹ: میراث کی درج بالا تقسیم اس صورت میں ہے معتبر ہے جب قابلِ تقسیم کل ترکہ اکتالیس لاکھ ہو ، اگر قرض یا دیگر کسی مالی حق کی ادائیگی کی وجہ سے ترکہ اکتالیس لاکھ سے کم ہو جائے یا کسی وجہ سے ترکہ کی رقم میں اضافہ ہو جائے تو اس صورت میں ہر وارث کا وہ حصہ نہیں ہو گا جو اوپر تحریر کیا گیا ہے بلکہ اب دوبارہ ترکہ کی صحیح مقدار بتلا کر مسئلہ معلوم کرنا ضروری ہو گا۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved