- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اہل بیت عظام اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے زیادہ فضیلت کن کو حاصل ہے؟۔ اس بارے میں الجھن ہے، راہنمائی کیجیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سب کے سب قابلِ توقیر، واجب الاتباع ، مدارِ ایمان اور معیارِ حق و صداقت ہیں، منجملہ صحابہ کرام میں ازواجِ مطہرات اور اہلِ بیتِ عظام بھی شامل ہیں، اور اہلِ بیت کا اوّلین مصداق امّہات المؤمنین رضی اللہ عنہن ہیں، اس لیے اہلِ بیتِ عظام کو الگ شمار کر کے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تقابل کے طور پر پیش کرنا قطعاً غلط ہے۔
”صحابی“ ایسے خوش بخت شخص کو کہا جاتا ہے جس کو حالتِ ایمان میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسر ہوئی ہو اور اسی حالت پر ان کا خاتمہ ہوا ہو۔ اس لیے خلیفۂ بلا فصل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے لے کر دنیا سے رخصت ہونے والے آخری صحابی حضرت ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ تک بشمول اہلِ بیتِ عظام و ازواجِ مطہرات تمام کے تمام شرفِ صحابیت میں یکساں تھے،البتہ اہلِ بیتِ عظام رضی اللہ عنہم کو شرفِ صحابیت کے ساتھ ساتھ اہلِ بیت ہونے کا اضافی اعزاز اور مقام حاصل ہے۔
اس لیے ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ صحابہ کرام اور اہلِ بیت عظام رضی اللہ عنہم دونوں کےساتھ محبت،در حقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کی علامت ہے اور ان دونوں سے بغض یا ان میں سے کسی ایک سے محبت اور دوسرے سے بغض در حقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغض کی علامت ہے، جو یقیناً گمراہی اور تباہی ہے۔
باقی فضیلت کے لحاظ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں فرقِ مراتب تھا، جس کی درجہ بدرجہ ترتیب یوں ہے:
1: خلفائے راشدین علیٰ ترتیب الخلافۃ
2: عشرۃ مبشرۃ
3: اصحابِ بدر
4: اصحابِ بیعتِ رضوان
5: شرکاء فتح مکہ
6: وہ صحابہ رضی اللہ عنہم جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved