• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مشترکہ خاندانی نظام میں پردہ کا اہتمام کیسے کیا جائے؟

استفتاء

دیور نامحرم ہے اور ان سے پردہ لازمی ہے  مگر ہم جوائنٹ  فیملی میں رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں   ہاتھ اور چہرہ کا پردہ نہیں ہو پاتا۔  تو اس بارے میں ہمارے لیے کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

حکمِ خداوندی کی اہمیت اور شرعی پردہ کی ضرورت اور افادیت اگر دل میں بٹھا لی جائے تو مشترکہ خاندانی نظام میں بھی خاتونِ خانہ کے لیے شرعی پردہ کرنا مشکل نہیں۔ اگر  خاتونِ خانہ  کے نامحرم افراد مثلاً دیور وغیرہ  اپنی  شرعی ذمہ داری کا احساس رکھیں  اور  اس خاتون    کو شرعی پردہ کرنے کا پورا موقع فراہم کریں تو  جوائنٹ فیملی سسٹم میں بھی اس حکمِ شرعی پر خوش اسلوبی سے عمل ہو سکتا ہے۔

فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

شرعی پردہ اللہ تعالیٰ کا قطعی حکم ہے، اگر قلب میں کچھ فکرِ آخرت ہو تو اس پر عمل کرنا کوئی مشکل نہیں، اس کے لیے علیحدہ گھر ہونا ضروری نہیں۔ چہرہ چھپانا اور بلا ضرورت بات کرنے سے احتراز ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی ممکن ہے، بقدرِ ضرورت بات کرنے کی گنجائش ہے۔ اس گنجائش سے ناجائز فائدہ اٹھا کر بلا ضرورت گپ شپ لگانے یا بالکلیہ پردہ ترک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔

(احسن الفتاویٰ: ج9 ص 37 )

اگر   مشترکہ  خاندانی نظام میں   شرعی پردہ کرنے میں  دشواری کا سامنا ہو اور نقاب لگانے میں دقت اور حرج ہو   تو    ایسی خاتون کے لیے صرف چادر کا پردہ کافی ہے۔

حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:

جو رشتہ دار مَحرم نہیں، مثلاً: خالہ زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد، بہنوئی یا دیور وغیرہ ، جوان عورت کو ان کے رو برو آنا اور بے تکلف باتیں کرنا ہرگز نہیں چاہیے۔ اگر مکان کی تنگی یا ہر وقت کی آمد و رفت کی وجہ سے گہرا پردہ نہ ہو سکے تو سر سے پاؤں تک کسی میلی چادر سے ڈھانپ کر شرم و لحاظ سے بضرورت رو برو آ جائے، اور کلائی، بازو، سر  کے بال اور پنڈلی ان سب کا ظاہر کرنا حرام ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کے روبرو عطر لگا کر عورت کو آنا جائز نہیں اور نہ بجتا ہوا زیور پہنے۔

(تعلیم الطالب: ص 5)

شہیدِ اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں  لکھتے  ہیں:

بھابھیوں سے پردہ تو عام لوگوں کی طرح ہے، مگر گھر میں آنا جانا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے صرف چادر کا پردہ کافی ہے، ضروری بات بھی کر سکتے ہیں اور کھانا وغیرہ بھی لا سکتے ہیں۔

                                   (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ج 8 ص 90)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہاتھ اور پاؤں کا پردہ ضروری نہیں،  البتہ چہرہ کا پردہ ضروری ہے۔   اگر مکمل پردہ کرنےمیں دشواری کا سامنا ہو تو بڑی چادر سے گھونگھٹ کر لی جائے، اس طریقے سے پردہ بھی قائم رہے گا اور امورِ خانہ داری بھی متأثر نہ ہوں گے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved