• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

منکرِ تقلید کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم

استفتاء

میرا سوال یہ ہے کہ ایک مسجد کا امام  غیر مقلد (تقلید کا منکر) ہے۔کیا اس کے پیچھے  نماز ہو جائے گی یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے سوال کے جواب میں حضرت مولانا مفتی سید عبدالرحیم لاجپوری رحمہ اللہ  کا فتویٰ نقل کر دیا جائے۔

(سوال وجواب دونوں نقل کیے جاتے ہیں)

سوال: غیر مقلد امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ ہمارے یہاں بعض حنفی غیر مقلدوں کی مسجد میں جا کر نماز پڑھتے ہیں، ان کی نماز صحیح ہو گی یا نہیں؟ بیّنوا توجروا۔

جواب:        مقلدین و غیر مقلدین میں بہت سے اصولی  و فروعی اختلاف ہیں، مثلاً یہ لوگ صحابہ  کو معیارِ حق نہیں مانتے۔ ائمہ اربعہ پر سبّ وشتم کرتے ہیں اور ان کی تقلید کو جن کے وجوب پر امت کا اجماع ہو چکا ہے اس کو بدعت بلکہ بعض تو شرک تک کہہ دیتے ہیں، اور اسی طرح بہت سے اجماعی مسائل کے مُنکِر ہیں۔ بیس رکعت تراویح کو بدعتِ عمری کہتے ہیں، وقوعِ طلاقِ ثلٰثہ کو قرآن و حدیث کے خلاف کہتے ہیں۔ جمعہ کی اذانِ اوّل  کو بدعتِ عثمانی کہتے ہیں، اور بعض تو چار سے زائد عورتوں سے نکاح کو جائز کہتے ہیں۔ متعہ کے جواز کے قائل ہیں۔ اس لیے ہمارے اکابرین فرماتے ہیں کہ حتّی الوسع ان کے پیچھے نماز  نہ پڑھی جائے اور نماز جیسی اہم عبادات کو مشتبہ طور ادا کرنا کس طرح مناسب ہو سکتا ہے؟ اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے ان کے پیچھے نماز پڑھ لی تو احتیاطاً بعد میں اِعادہ کر لے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved