- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میرا سوال یہ ہے کہ جب جاز کیش اکاؤنٹ میں پیسے رکھتے ہیں۔ تو کمپنی والے اس کے بدلے کچھ فری منٹس دیتے ہیں۔ ان منٹس کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اکاؤنٹ میں رکھی گئی رقم قرض ہے اور قرض کے عوض کوئی بھی فائدہ اٹھانا سود ہے جو کہ سراسر حرام ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا.
(اتحاف الخیرہ المہرۃ للبوصیری: رقم الحدیث 2937)
ترجمہ: ہر وہ قرض جس سے نفع حاصل کیا جائے تو یہ نفع سود ہے۔
اس لیے ان روپوں کے بدلے میں ملنے والے فری منٹس، ایم بیز یا ایس ایم ایس وغیرہ کا استعمال کرنا جائز نہیں۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved