• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

اللہ تعالیٰ کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کرنے کا حکم

استفتاء

قران کریم اور کئی احادیث قدسیہ میں اللہ پاک اپنی ذات کے لیے  جمع کا صیغہ استعمال کر کے انسانوں سے مخاطب ہیں،   جب کہ اللہ پاک تو واحد اور اکیلے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے جمع کے صیغے استعمال کیے ہیں؟

ایک بریلوی عالم نے اس کی وضاحت یوں کی کہ جمع کے صیغہ اس لیے استعمال ہوئے کہ اس سے ایک تو  اللہ پاک کی اور دوسری  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی مراد ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جمع کا صیغہ استعمال کرنا بالکل درست ہے۔ اس حوالے سے دو باتیں سمجھ لینی چاہییں:

[۱]:         اردو محاورہ میں واحد کے لیے بھی جمع کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے مقصود اس ذات کی تعظیم و تکریم  ہوتی ہے۔ جیسے کسی ایک شخص کو آپ یوں کہیں ”آپ کیا کرتے ہیں؟“ ، ”آپ کب واپس آئیں  گے“ اسی طرح یہ کہنا کہ ”تم ہمارے ہاں کب آؤ گے؟“ ان جملوں میں واحد کے لیے تعظیماً جمع کا صیغہ بولا گیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالیہ  کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کرنا کہ  ”اللہ کرتا ہے“ یا  ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں“ کہنا درست ہے، اس میں  شرعاً کوئی حرج نہیں۔

[۲]:دوسری بات یہ ہے کہ توحید کا عقیدہ  دراصل اتنا رسوخ پا چکا ہے کہ صیغۂ  جمع عقائد کے باب میں مستعمل ہو تب بھی تعدّدِ اِلٰہ (ایک سے زیادہ معبود ہونے ) کا شائبہ نہیں گزرتا، اس لیے جمع کا صیغہ لایا جاتا ہے۔

باقی اس بریلوی آدمی نے جو تاویل کی ہے، وہ سراسر بے بنیاد اور غلط ہے۔ اس کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved