- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
مجھ سے کبھی کبھی معمولات کی ادائیگی میں کوتاہی ہو جاتی ہے، کیا میں اس کو دور کرنے کے لیے اپنے اوپر کوئی مالی جرمانہ بطور سزا مقرر کر سکتا ہوں؟ مثلاً میں اپنی ذات سے کہوں اگر تم نے تہجد ادا نہ کیے تو تجھے سو روپیہ صدقہ دینا پڑے گا، کیا ایسا کرنے کی شریعت میں گنجائش ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”وطی حائض اور ترکِ جمعہ پر حضور علیہ الصلوٰہ والسلام نے تصدّق دینار اور نصف دینار کا امر فرمایا ہے، جس سے جرمانہ کے مال کا بطور معالجہ ثبوت ہوتا ہے۔“
(اشرف الکلام: ص157)
اپنی اصلاح اور بہتری کی خاطر سستی، کاہلی ، کوتاہی اور غفلت کے ازالہ کے لیے اپنے نفس پر جانی مشقت یا مالی جرمانہ لگانے کا جواز معلوم ہوتا ہے، مثلاً اعمال میں غفلت یا کوتاہی پر اپنے نفس کوسو روپے صدقہ دینے یا بیس رکعت نفل پڑھنے کا پابند بنا دیا جائے، عموماً یہ صورت مفید ہوتی ہے۔ مگر بہتر یہ ہے کہ ایسا کوئی اقدام از خود کرنے کے بجائے اپنے مرشد اور شیخ کی اجازت اور ان کے بتلائے ہوئے طریقہ کے مطابق کیا جائے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved