• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

نکاح پر نکاح کرنے کا حکم

استفتاء

پوچھنا یہ ہے کہ پہلے سے موجود نکاح کے ختم ہوئے بغیر دوسرا نکاح کرنے کا کیا حکم ہے؟ شریعت میں اس کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

پہلا نکاح ختم کیے بغیر دوسرا نکاح کرنا جسے عام الفاظ میں ”نکاح پر نکاح کرنا“ کہتے ہیں، اس کی دو صورتیں ہیں: ایک صورت حرام اور ناجائز ہےاور دوسری صورت جائز ہے۔ دونوں صورتیں ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔

حرام صورت:

نکاح پر نکاح کرنے کی حرام اور ناجائز صورت  یہ ہے کہ ایک عورت کسی کے نکاح میں ہو اور اس کا نکاح ختم کیے بغیر اس کے ساتھ کسی  اور مرد کا  نکاح کر لیا جائے۔ یہ عمل سراسر حرام اور ناجائز ہے ۔  اگر یہ عورت پہلانکاح ختم کیے بغیر اپنی رضامندی سے بھی کسی اور مرد سے نکاح کر لے تب بھی شریعت میں  یہ جائز نہیں، یہ حرام اور سراسر بدکاری ہے۔

واضح رہے کہ کسی کی منکوحہ سے نکاح کرکے اپنے پاس رکھنے سے وہ  ہرگز حلال نہ ہوگی۔ وہ بہ دستور حرام ہی رہے گی۔ نیز    اس عمل کو حلال سمجھنا کفر ہے۔

جائز صورت:

بعض شادی شدہ لوگ احتیاطاً اپنے نکاح کی تجدید کرا لیتے ہیں ، مقصد یہ ہوتا ہے کہ  ممکن ہے کسی موقع پر  جانے انجانے میں  کوئی ایسا کلمہ یا کام سرزد ہو گیا ہو جس سے نکاح ختم ہوجاتا ہے تو تجدید  کرا کے  نکاح بحال کر لیتے ہیں،  بظاہر یہ بھی نکاح پر نکاح ہوتا ہے  مگر شرعی طور پہ یہ جائز ہے ،  ممنوع نہیں ہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved