- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
”جائفل“ (Nutmeg) ایک پھل ہے جس کی بہت عمدہ خوشبو ہوتی ہے۔ گوشت، سبزیوں اور حلوہ جات میں ڈالا جاتا ہے۔ اس کے متعلق سنا ہے کہ یہ حرام ہے اور اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ بات درست ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
واضح رہے کہ ”جائفل“ کو علی الاطلاق حرام کہنا درست نہیں البتہ یہ بات واضح رہے کہ جائفل کو خشک نشہ آور اشیاء میں شمار کیا گیا ہے۔ ان اشیاء کا حکم یہ ہے کہ ان کی اتنی مقدار استعمال کرنا جائز ہے جس سے نشہ نہ آئے۔ ان کی زیادہ مقدار جس سے نشہ آ جائے، حرام اور ناجائز ہے۔ گوشت، سبزیوں اور حلوہ جات میں جائفل کی عموماً بہت کم مقدار ڈالی جاتی ہے جو نشہ آور نہیں ہوتی۔ اس لیے ان چیزوں میں اس کا اتنا استعمال جائز ہے۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی (ت1362ھ) فرماتے ہیں:
”شراب کے علاوہ اور جتنے نشے ہیں جیسے افیون، جائے پھل [مراد جائفل ہے] زعفران وغیرہ ان کا حکم یہ ہے کہ دوا کے لیے اتنی مقدار کھا لینا درست ہے کہ بالکل نشہ نہ آوے اور اس دوا کا لگانا بھی درست ہے جس میں یہ چیزیں پڑی ہوں اور اتنا کھانا کہ نشہ ہو جاوے حرام ہے۔“
(بہشتی زیور: حصہ سوم ص52)
نوٹ:
یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ معروف فقیہ علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی الحنفی(ت1088ھ) جائفل کے بارے میں لکھتے ہیں:
وَكَذَا تَحْرُمُ جَوْزَةُ الطِّيبِ لٰكِنْ دُونَ حُرْمَةِ الْحَشِيشَةِ.
(الدر المختار: ج6 ص458)
ترجمہ: اسی طرح جائفل بھی حرام ہے لیکن اس کی حرمت پوست کے چھلکے سے کم ہے۔
واضح ہو کہ یہاں ”حرام“ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اگر اس کی اتنی مقدار استعمال کی جائے جس سے نشہ پیدا ہو تب حرام ہے ورنہ نہیں۔
چنانچہ علامہ محمد امین بن عمر بن عبد العزیز بن احمد ابن عابدین شامی (ت1252ھ) علامہ حصکفی رحمہ اللہ کی اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں:
فَهٰذَا كُلُّهُ وَنَظَائِرُهُ يَحْرُمُ اسْتِعْمَالُ الْقَدْرِ الْمُسْكِرِ مِنْهُ دُونَ الْقَلِيلِ كَمَا قَدَّمْنَاهُ.
(رد المحتار: ج6 ص458)
ترجمہ: ان اشیاء اور ان جیسی دیگر اشیاء کی اتنی مقدار حرام ہے جس سے نشہ آ جائے، ان کی تھوڑی مقدار (جس سے نشہ نہ آئے) حرام نہیں جیسا کہ ہم نے پہلے وضاحت کر دی ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved