• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر تین طلاق دینے کا حکم

استفتاء

ایک شخص نے اپنی بیوی کے بارے میں یہ الفاظ کہے: میں نے آج اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر  یہ کہا ہے:

یا اللہ !آج آپ میری اس بات کے گواہ ہو  کہ میں نے اس کو طلاق دی، طلاق دی ، طلاق دی۔

دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا اس طریقے سے  ایک مجلس میں گواہ بنا کر طلاق دینےسے طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟   کیوں کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ  ایک  ساتھ تینوں طلاقیں دی جائیں تو تین نہیں ہوتیں  بلکہ ایک  ہوتی ہے۔ اگر طلاقیں واقع ہو چکی ہیں تو دوبارہ ساتھ رہنے کا کیا طریقہ ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یاد رکھیے کہ طلاق دیتے وقت گواہ بنانا ضروری نہیں ہوتا کیوں کہ  طلاق کے واقع ہونے اور نہ ہونے کا تعلق الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے، لہٰذا  طلاق کے الفاظ  استعمال کرنے کی صورت میں کوئی  گواہ نہ بھی ہو تب بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

سوال میں مذکور شخص نے جو الفاظ ادا کیے ہیں  اس سے  شرعی طور پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔  میاں بیوی کا ایک ساتھ رہنا حرام ہے۔  اب دوبارہ ایک ساتھ رہنے کے لیے تجدیدِ نکاح کافی نہیں بلکہ اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ یہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرے اور نکاح کے بعد دوسرا شوہر صحبت کرے، اس کے بعد فوت ہو جائے یا از خود طلاق دے دے اور اس کی عدت بھی گزر جائے تب    پہلا شوہر اور یہ عورت باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح  کر سکیں گے۔

ایک مجلس کی تین طلاق کے تین ہونے کے دلائل:

دلیل نمبر1:    اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوْفٍ أَوْ تَسْرِيْحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ (سورۃ البقرہ :229)

ترجمہ: طلاق  دو با رہونی چاہیے۔ اس کے بعد (شوہر) یا تو قاعدے کے مطابق (بیوی کو) روک رکھے (یعنی طلاق سے رجوع کر لے) یا خوش اسلوبی سے چھوڑ دے۔

امام محمد بن اسما عیل البخا ری رحمۃ اللہ علیہ تین طلا ق کے وقوع پر مذکورہ آیت سے استدلال کر تے ہوئے باب قائم فرماتے ہیں:

بَابُ مَنْ أَجَازَ طَلَاقَ الثَّلَاثِ لِقَوْلِ اللّهِ تَعَالٰى ﴿اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوْفٍ أَوْ تَسْرِيْحٌ بِإِحْسَانٍ﴾

                                       (صحیح البخاری: ج2 ص791)

ترجمہ: باب؛ جس نے تین طلاقیں دیں تو وہ واقع ہو جائیں گی اس لیے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوْفٍ أَوْ تَسْرِيْحٌ بِإِحْسَانٍ﴾

دلیل نمبر2:    عَنِ ابْنِ شِہَابٍ اَنَّ سَھْلَ بْنَ سَعْدٍ السَاعِدِیَّ اَخْبَرَہُ … قَالَ عُوَیْمَرُرَضِیَ اللہُ عَنْہُ کَذَبْتُ عَلَیْھَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! اِنْ اَمْسَکْتُھَا فَطَلَّقَھَا ثَلاَ ثًا قَبْلَ اَنْ یَّامُرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ (وَفِیْ رِوَایَۃِ اَبِیْ دَاؤُدَ)قَالَ:فَطَلَّقَھَاثَلاَثَ تَطْلِیْقَاتٍ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَاَنْفَذَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ.

(صحیح البخاری: رقم الحدیث 5259 ، سنن ابی داؤد: رقم الحدیث 2252)

ترجمہ:          حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے(جب اپنی بیوی سے لعان کیا  توحضور صلی اللہ علیہ و سلم کی موجودگی میں) کہا: یارسول اللہ! اگر اب بھی میں اس عورت کو اپنے گھر میں رکھوں تو گویا میں نے اس پر( جھوٹا )بہتان باندھا۔ یہ کہہ کر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔(سنن ابی داؤد کی روایت میں ہے کہ) عویمرنے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی موجودگی میں تین طلاقیں دیں توآپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان طلاقوں کو نافذ بھی کردیا۔

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو نافذ فرما دیا تھا۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ”بَابُ مَنْ أَجَازَ طَلَاقَ الثَّلَاثِ‘‘ [باب؛ جس نے تین طلاقیں دیں  تو وہ واقع ہو جائیں گی] کے تحت اس روایت کو لائے ہیں۔ ثابت ہوا کہ امام بخاری رحمہ اللہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ  تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں اگرچہ ایک مجلس میں دی گئی ہوں۔

دلیل نمبر3:    عَنْ أَنَسٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ عُمَرُ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ اِذَااُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ طَلَّقَ اِمْرَأتَہُ ثَلاَثاً فِیْ مَجْلِسٍ أَوْجَعَہُ ضَرْباً وَفَرَّقَ بَیْنَھُمَا.

(مصنف ابن ابی شیبۃ: رقم الحدیث 18089 – اسنادہ حسن)

ترجمہ:          حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی ایسا آدمی لایا جاتا جس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دی ہوتیں توحضرت عمر  رضی اللہ عنہ اس کو سزا دیتے اوران میاں بیوی کے درمیان جدائی کردیتے تھے۔‘‘

دلیل نمبر4:    امام ابو بکر احمد الرازی الجصاص  (ت307ھ) لکھتے ہیں:

فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا.

(احکام القر آن للجصا ص :ج1 ص527ذکر الحجاج لایقاع الثلاث معا ً )

ترجمہ: قرآن مجید، سنت مبارکہ  اور سلَف کے اجماع سے ثابت ہے کہ تین طلاقیں اکٹھی دی جائیں تو واقع ہو جاتی ہیں۔

دلیل نمبر5:    امام ابو بکر محمد بن ابراہیم بن المنذر (ت319ھ) لکھتے ہیں:

وَأجْمَعُوْا عَلٰی أَنَّ الرَّجُلَ اِذَا طَلَّقَ اِمْرَأتَہُ ثَلاَ ثًا أَنَّھَالَاتَحِلُّ لَہُ اِلَّابَعْدَ زَوْجٍ عَلٰی مَاجَائَ بِہٖ حَدِیْثُ النَّبِیّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ.

(کتاب الاجماع لابن المنذر: ص92)

ترجمہ: ان (فقہاء اورمحدثین) کا اس بات پر اجماع ہے کہ جب مرد اپنی بیوی کوتین طلاقیں دے تو وہ اس کے لیے حلال نہیں رہتی۔ ہاں! جب وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے (اور وہ از خود طلاق دے دے یا مر جائے اور عدت بھی گزر جائے) تواب حلال ہوجاتی ہے کیوں کہ اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث وارد ہوئی ہے ۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved