• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

فسخِ نکاح کا صحیح طریقہ

استفتاء

ہمارے علاقہ  میں ایک خاتون نے عدالت سے فسخِ  نکاح کی ڈگری لی ہے۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ  کیا شرعی طور پر عدالت کا یہ فیصلہ معتبر ہو گا؟ کیا شریعت کی نگاہ میں بھی یہ نکاح فسخ سمجھا جائے گا یا نہیں؟ براہِ کرم  اس بارے میں تفصیل سے  راہنمائی فرمائیں­۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ کے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ مذکورہ خاتون کا نکاح عدالت نے کس بنیاد پر فسخ کیا ہے؟ اس مسئلے میں قدرے تفصیل ہے جو ذیل میں درج کی جاتی ہے۔

1:      یہ بات ذہن نشین فرمالیں کہ شریعت مطہرہ نے عام حالات میں نکاح کو ختم کرنے کا مکمل اختیار خاوند کے سپرد کیا ہے،  عورت خود کو طلاق نہیں دے سکتی ، ہاں اس  ایک  صورت میں عورت اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہے جب خاوند نے طلاق دینے کا حق اس کے حوالے کر دیا  ہو، اس کے علاوہ عورت اپنے آپ کو جتنی بار مرضی طلاق دے واقع نہ ہو گی ۔

2:      بعض اسباب ایسے ہیں جو فسخ نکاح کا سبب بنتے ہیں،  اگر ان میں سے کوئی بھی ایک سبب خاوند میں موجود ہو تو اس صورت میں شریعت عورت کو یہ حق دیتی ہے کہ اگر وہ چاہےتو عدالت کے ذریعے سے اپنا نکاح فسخ کرا سکتی ہے،   ایسی صورت میں اگر  موجودہ (مسلمان) عدالت خاوند میں موجود اسی سبب سے متعلق تمام شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے عورت کا نکاح فسخ کر دے  توشرعاً  یہ فیصلہ معتبر سمجھا جائے گا۔

3:      جن اسباب کی بنیاد پر عورت کو شریعت کی طرف سے فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہیں ۔

ⅰ-       خاوند عِنّین ہو  یعنی بیماری ، ضعف یا کسی اور وجہ سے صحبت کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو۔

ⅱ-      خاوند مجنون ہو یعنی دیوانہ پاگل ہو ۔

ⅲ-     خاوند مفقود  یعنی لا پتہ ہو ، حتّی  الوسع تلاش کے اسباب و ذرائع استعمال کرنے کے باوجود اس کے زندہ یا مردہ ہونے کی خبر نہ ہو ۔

ⅳ-     خاوند غائب غیر مفقود ہو ۔یعنی لاپتہ تو نہ ہو مگر بیوی کو چھوڑ کر کسی اور جگہ چلا گیا ہو ، نان نفقہ بھی نہ دیتا ہو ، خود بھی نہ آتا ہو اور طلاق بھی نہ دیتا ہو۔

ⅴ-      خاوند مُتعنّت ہو، یعنی ایسا ظالم اور  خبیث الفطرت ہو کہ قدرت اور وسعت کے باوجود نان و  نفقہ کا انتظام بھی نہ کرتا ہو اور طلاق بھی نہ دیتا ہو۔

ⅵ-     خاوند کی طرف سے بیوی کو شدید ضرر لاحق ہو ۔ مطلب یہ کہ خاوند بیوی پر ایسا جسمانی یا ذہنی تشدد کرتا ہو جس کی وجہ سے عورت کا جینا دو بھر ہو جائے اور سکون و راحت سے جینا مشکل ہو جائے ، مثلاً خاوند بیوی سے غیر فطری طریقے سے صحبت کرتا ہو یا مار پیٹ ، طعن و تشنیع کے ذریعے جسمانی و ذہنی طور پر مجروح کرتا ہو۔

4:      فسخِ نکاح کا صحیح طریقہ :

عدالت کے ذریعے نکاح فسخ کرانے کا صحیح طریقہ اور اس سے متعلق مسائل حسب ِ ذیل ہیں ۔

ⅰ-       عورت کسی مسلمان قاضی کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرے ، خاوند کے ساتھ اپنے نکاح کو اور  جس سبب کی بنیاد پر فسخ نکاح کا مقدمہ پیش کیا ہے اس کو گواہوں کے ذریعے ثابت کرے،  مثلاً:  خاوند متعنت ہے اس سے تنگ آ کر بیوی فسخ نکاح کا مطالبہ کرتے وقت یوں اپنا مدّعا پیش کرے۔ ” میں اتنی مدت سے فلاں کے نکاح میں ہوں ، میرا خاوند وسعت اور استطاعت کے باوجود نان و نفقہ کاانتظام نہیں کرتا،  اب میرے نان و نفقہ کا متبادل انتظام نہیں ہے، اس وجہ سے مجھے شدید ضرر لاحق ہے ، اب میں اپنے خاوند  کے نکاح میں نہیں رہنا چاہتی ، لہٰذا معزز عدالت سے اپیل ہے کہ وہ  مجھے اس کی زوجیت سے الگ کر دے ۔

ⅱ-      عورت کے پاس اپنے مدّعا کے ثبوت کے لیے گواہ نہ ہوں یا گواہ تو ہوں مگر کسی وجہ سے عورت پیش نہ کر سکے تو اس صورت میں اگر خاوند عدالت میں حاضر ہو تو قاضی اس سے قسم لے ، اگر وہ قسم کھانے سے انکار کرے تو اب عورت کا دعویٰ درست سمجھا جائے گا ، اب قاضی شوہر کو اس بات کا پابند کرے کہ وہ اپنی بیوی کے نان و نفقہ کا معقول انتظام کرے ، اگر یہ نہیں کرتا تو طلاق یا خلع پر رضا مند ہو جائے،  اگر خاوند ان میں  سے کسی پر رضا مند ہو جائے تو عدالت اس کے مطابق فیصلہ نافذ کر دے ۔ لیکن اگر خاوند اس قدر ظالم ہو کہ کسی بھی بات پر آمادہ نہ ہو اور اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹا رہے تو اب عدالت کوئی مہلت دے بغیر اسی وقت نکاح فسخ کر دے۔

ⅲ-     عدالت کی طرف سے بار بار نوٹس جاری کیے جانے سے باخبر ہونے کے باوجود خاوند نہ خود عدالت حاضر ہو اور نہ ہی اپنا کوئی نمائندہ بھیجے ، اس صورت میں اگر بیوی کے پاس گواہ موجود ہوں تو وہ پیش کرے اور اب عدالت ان گواہوں کی شہادت کی بنیاد پر بیوی کے حق میں فسخ نکاح کا فیصلہ کر دے ۔اگر عورت گواہ پیش نہ کر سکے تو بار بار طلب کیے جانے کے باوجود خاوند  یا اس کے وکیل کا عدالت میں حاضر نہ ہونا خاوند کی طرف نکول یعنی  قسم سے انکار سمجھاجائےگا ، اب نکول  کی بنیاد پر عدالت فسخِ  نکاح کا فیصلہ جاری کر دے۔

ⅳ –    فسخ  نکاح کی  درخواست میں خاتون ایسے سبب کو بنیاد بنائے جو شریعت میں بھی فسخ  نکاح کا سبب بن سکتا ہو اور عدالت بھی اپنے فیصلے میں اسی شرعی سبب کو  بنیاد بنائے ۔

ⅴ-      خاتون یا عدالت میں سے کوئی ایک بھی فسخ  نکاح کے لئے “خلع” کا طریقہ اختیار نہ کرے،  کیوں کہ  خاوند کی رضا مندی کے بغیر یک طرفہ خلع شرعاً جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر عدالت کا فیصلہ ایسے سبب  کی بنیاد پر ہو جو شرعاً معتبر ہو جیسے خاوند متعنت ہو  مگر فیصلہ کرتے وقت فسخ کے بجائے خلع کا طریقہ یا خلع کا لفظ استعمال کیا گیا ہو تو اس صورت میں خلع کے طور پر علیحدگی کا اعتبار نہ ہوگا، کیوں کہ یہ  خلع یک طرفہ واقع ہوا ہے۔ البتہ حقیقت میں یہ فیصلہ چونکہ شرعی بنیاد پر ہوا ہے اس لیے شرعی بنیاد کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ فیصلہ شرعاً معتبر سمجھا جائے گا اور نکاح فسخ ہوجائے گا ۔

ⅵ-     عدالت کا فیصلہ شرعاً معتبر ہونے کی صورت میں جس دن عدالت باقاعدہ طور پر فسخ نکاح کا فیصلہ جاری کرے گی  اس تاریخ سے عورت کی عدت شروع ہو گی، عورت کی عدت تین حیض ہے، ماہ واری نہ آنے کی صورت میں تین ماہ مکمل عدت گزارے ،عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے کی شرعاً اجازت ہوگی۔

 فائدہ نمبر1:

فسخِ نکاح کے لیے مسلمان قاضی کا فیصلہ کرنا ضروری ہے، اگر کافر قاضی فسخِ نکاح کا فیصلہ کرے گا تو مسلمان کے حق میں وہ فیصلہ نافذ نہ ہو گا۔ جن علاقوں  میں قاضی شرعی موجود ہوں  وہاں فسخِ نکاح کا معاملہ سہل ہے، قاضی صاحب  فسخِ نکاح کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا تو شرعاً وہ فیصلہ معتبر ہو گا، اور جن علاقوں میں قاضی شرعی موجود نہ ہوں وہاں فسخِ نکاح کے حوالے سے درج ذیل تفصیل ہے۔

ⅰ-       قاضی شرعی تو نہ ہو مگر حکومت کی طرف سے طلاق، خلع اور فسخِ نکاح جیسے معاملات حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی موجود ہو، جس  کے ممبران مسلمان دین دار ہوں جو فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہوں ، اگر یہ کمیٹی  شرعی قواعد کے مطابق فسخِ نکاح کا فیصلہ کردے تو ان کایہ فیصلہ قضائے قاضی کے قائم مقام ہو کر معتبر اور نافذ سمجھا جائے گا۔

ⅱ-      ایسا علاقہ جہاں مسلمان حاکم نہ ہو، یا مسلمان حاکم تو ہو مگر اس کی عدالت میں مقدمہ لے جانے کا قانوناً اختیار نہ ہو، یا وہ مسلمان حاکم قواعدِ شرعیہ کے مطابق فیصلہ نہ کرتا ہوتو ایسی صورت میں اہلِ علاقہ میں سے ایک دین دار جماعت منتخب کی جائے جو کم از کم تین افراد پر مشتمل ہو، وہ جماعت حالات و واقعات کی چھان بین کرکے شرعی قواعد کے موافق فیصلہ کرے تو وہ شرعاً معتبر ہو گا،لیکن اس جماعت میں درج ذیل  صفات کا پایا جانا ضروری ہے۔

(۱)   جماعت کا ہر ممبر عادل ہو، مطلب کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو، صغیرہ گناہوں پر اصرار نہ کرتا ہو اور اگر کبھی گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کرتا ہو۔

(۲)     ہر ممبر   صاحبِ علم، معاملہ فہم اور قواعدِ شرع سے واقف ہو۔

(۳)       فسخِ نکاح  کا فیصلہ اتفاقِ رائے سے ہو، اگر کسی ایک ممبر کا بھی  اختلاف ہوا تب   وہ فیصلہ شرعاً معتبر  نہ ہو گا۔کیوں کہ اس معاملہ میں کثرتِ رائے کا اعتبار نہیں ہے۔

نوٹ:   اگر کمیٹی کے تمام افراد درج بالا صفات سے متّصف نہ ہوں تو کم از کم کوئی ایک تو ضرور ہو، اگر کوئی ایک بھی ایسا نہ ہوا تو اب ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ از خود فیصلہ نہ کریں بلکہ جیّد علماء کرام سے راہ نمائی لیں، تمام حقائق و واقعات ان کے گوش گزار کریں، ان کی روشنی میں وہ جو فتویٰ دیں یہ جماعت اس کے مطابق  فیصلہ کرے۔ اگر اس جماعت نے از خود فیصلہ کیا تو  شرعاً وہ نافذ نہ ہو گا۔

اسی طرح اگر بد قسمتی سے کسی جگہ فیصلہ کرنے والے بااثر افراد دین دار نہ ہوں تو یہ تدبیر اختیار کر لی جائے وہ بااثر افراد چند دین دار مسلمانوں کو اس فیصلہ کا اختیار سونپ دیں، اس طرح بااثر افراد کے اثر سے کام بھی  سہولت سے  ہو جائے گا اورشرعاً  فیصلہ کی نسبت بھی دین دار جماعت کی طرف ہو گی۔

فائدہ نمبر2:

جس عورت کا خاوند لاپتہ ہو، ہر ممکن کوشش کے باوجود نہ ملا ہو تو وہ عورت عدالت سے رجوع کرے۔ عدالت بھی اس کو تلاش کرنے میں تمام ممکنہ آلات و ذرائع استعمال میں لائے، اگر وہ پھر بھی نہ ملے اور اس کے ملنے سے مایوسی ہو جائے تو عدالت عورت کو مزید چار سال انتظار کا حکم دے۔ اس دوران لاپتہ مل جائے تو بہتر ورنہ خاتون قاضی کے پاس دوبارہ درخواست دے، اب قاضی اس مفقود کے بارے”فوت شدہ” ہونے کا فیصلہ کردے۔ فیصلہ نافذ ہونے کے بعد خاتون عدتِ وفات چار ماہ دس دن پوری کرے، اس کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار ہوگا۔

دو صورتیں ایسی ہیں جن میں خاتون کو چار سال تک انتظار کا پابند بنائے بغیر قاضی فی الفور فسخِ نکاح کا فیصلہ کرسکتا ہے۔

(۱)     اگر خاتون  کے لیے عزت و عصمت کو محفوظ رکھتے ہوئے چار سال تک انتظار کرنا دشوار ہو، گناہ  میں ملوّث ہونے کا شدید خطرہ ہو  اور خاوند کے لاپتہ ہونے سے اب تک کم از کم ایک سال  کا عرصہ گزر چکا ہو تو ایسی صورت میں قاضی مزید مہلت دیے بغیر فی الفور فسخِ نکاح کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

(۲)     خاتون  کے لیے عزت و عصمت کو محفوظ رکھتے ہوئے چار سال تک انتظار کرنا دشوار  تو نہ ہو مگر لاپتہ شوہر کا اتنا مال موجود نہ ہوجو انتطار کے چار سالوں تک اس کی بیوی کے نان و نفقہ کے لیے کافی ہو یا مال موجود ہو مگر بیوی کے لیے اس کو حاصل کرنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ عورت نان و نفقہ کے بغیر کم از کم ایک ماہ گزار چکی ہو تو قاضی مزید انتظار کی مہلت دیے بغیر فی الفور نکاح فسخ کر سکتا ہے۔مگر یاد رہے کہ مذکورہ دونوں صورتوں میں خاتون عدتِ وفات کے بجائے عدتِ طلاق تین ماہ واری (حیض نہ آنے کی صورت میں تین ماہ) گزارے گی۔

فائدہ نمبر3:

قاضی نے لاپتہ شخص کے  حق میں فوت شدہ ہونے کا فیصلہ کر دیا اس کے بعد وہ واپس آ جائے تو اس کی تفصل یہ ہے کہ وہ لاپتہ شخص اپنی بیوی کے دوسرے نکاح سے پہلے پہلے آ جائے یا دوسرا نکاح ہو جانے کے بعد مگر خلوتِ صحیحہ سے پہلے آ جائے تو اس صورت میں عورت اپنے پہلے شوہر کے نکاح میں سمجھی جائے گی، لاپتہ شوہر کے واپس آنے سے دوسرا نکاح باطل ہو جائے گا۔

اگر لاپتہ شوہر  اس وقت آئے جب دوسرا خاوند خلوتِ صحیحہ کر چکا ہو تو اس صورت میں فقہاء احناف رحمہم اللہ کا فتویٰ اس پر ہے کہ اب بھی  عورت اپنے پہلے شوہر کے نکاح میں سمجھی جائے گی، دوسرا نکاح باطل ہو جائے گا۔لیکن اس صورت میں  پہلے شوہر کے پاس عورت پر عدتِ طلاق گزارنا  لازم ہو گا، اگر عورت دوسرے شوہر سے حاملہ ہو چکی ہو تو عدت بچہ کی ولادت تک ہو گی اور عدت کے ایام میں پہلے شوہر کے لیے عورت سے نفع اٹھانا حلال نہیں ہو گا۔

فائدہ نمبر4:

جو شخص لاپتہ تو نہ ہو مگر گھر سے غائب ہو ،  نہ تو بیوی کےپاس  نان و نفقہ بھیجتا  ہو، نہ پاس بلاتا ہواور نہ ہی  طلاق یا خلع پر آمادہ ہو، اس کی بیوی کے لیے نان و نفقہ کے بغیر عفت و عصمت کو برقرار رکھتے ہوئے جب  وقت گزارنا دشوار ہو جائے تب وہ قاضی کے پاس جا کر گواہوں کے ذریعے اس غائب شوہر کے ساتھ اپنا نکاح ثابت کرے، اس کے بعد گواہوں کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ میں نے اس کو اپنا نان و نفقہ معاف بھی نہیں کیا، اب وہ اتنی مدت سے خرچہ نہیں دے رہااور نہ ہی میرے پاس متبادل کوئی معقول انتظام ہے، ان تمام باتوں پر حلف بھی اٹھائے ، اور  یہ مطالبہ کرے کہ اب  میں مزید اس کے نکاح میں نہیں رہ سکتی مجھے الگ کیا جائے۔اس کےبعد قاضی غائب شوہر کے پاس  دو معتبر آدمیوں کے ہاتھ نوٹس بھیج کر اس کو پابند کرے کہ  خود آکر یا بیوی کو اپنے پاس بلا کر نان و نفقہ کا انتظام کرو،   ورنہ طلاق یا خلع پر آمادہ ہو جاؤ، ورنہ ہم تم دونوں میں تفریق کر دیں گے۔ شوہر کسی بات پر آمادہ ہو جائے تو بہتر ورنہ قاضی عورت کو مزید ایک ماہ انتظار کرنے کا حکم دے۔ اس دوران شوہر بات مان لے تو ٹھیک ورنہ قاضی عورت کو اس کی زوجیت سے الگ کردے۔ اب یہ عورت طلاق کی عدت گزار کر دوسرا عقد کر سکتی ہے۔

فائدہ نمبر5:

اگر غائب شوہر ایسی جگہ پرہو جہاں ہر ممکن کوشش کے باوجود  اپنا نمائندہ بھیجنے کا کوئی انتظام نہ ہو تو  ایسی مجبوری کی صورت میں اس بات کی گنجائش ہے کہ حاکمِ وقت یا اس کا قائم مقام حالات و واقعات کی پوری تحقیق کے بعد فسخِ نکاح کا فیصلہ کر دے۔

فائدہ نمبر6:

          قاضی کا فیصلہ ہو جانے کے بعد اگر غائب شوہر واپس آکر تمام ضروریات پوری کرنے پر آمادہ ہو جائےتو اس کی تفصیل یہ ہے ۔

(۱)     اگر عدت کے اندر اندر آجائے تو اس کو رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ، اگر رجوع نہ کیا تو عدت گزرتے ہی نکاح ٹوٹ جائے گا۔

(۲)      اگر عدت گزرنے کے بعد آئے اور آکر عورت کے دعویٰ کو ثبوت کے ساتھ غلط ثابت کر دے تب بھی عورت اسی کو ملے گی، خواہ عورت نے دوسرے مرد سے نکاح کر لیا ہو اور خواہ اس سے بچے بھی پیدا ہو چکے ہوں۔اب اس پہلے شوہر کا نکاح ثابت سمجھا جائے گا دوسرے کا نکاح باطل قرار دیا جائے گا۔ لیکن  اس صورت میں (جب کہ دوسرے شوہر نے صحبت یا کم از کم خلوتِ صحیحہ کر لی ہو) عورت پر عدت گزارنا لازم ہے۔

اگر واپس آکر پہلا شوہر  اپنی بیوی کے دعویٰ کو غلط ثابت نہ کر سکا تو اب وہ اس کو نہ ملے گی، کیوں کہ عدت گزرنے کے بعد رجوع کا حق باقی نہیں رہتا۔

فائدہ نمبر7:

مذکورہ تفصیل کی روشنی میں عورت کو فسخ ِ نکاح کا ملنے والا اختیار تب مؤثر و معتبر ہوگا جب فسخ نکاح کا سبب اپنی  تمام شرائط کے ساتھ موجود ہو،  بسا اوقات فسخِ  نکاح کا  سبب موجود نہیں ہوتا یا سبب تو موجود ہوتا ہے مگر اس کی شرائط نہیں پائی جاتیں، ایسی صورت میں اگر کسی نے نکاح فسخ کرا لیا تو شریعت کی نظر میں یہ بالکل غیر معتبر سمجھا جائے گا اور اس صورت میں عورت اگر دوسری جگہ نکاح کرے گی تو وہ شرعاً باطل ہوگا۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved