• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

قرض معاف کرنے سے زکوٰة ادا ہو گی یا نہیں؟

استفتاء

ایک شخص نے کسی کو کچھ رقم قرض دی ہوئی ہے۔ قرض دار غریب آدمی ہے، وہ قرضہ کی ادائیگی سے قاصر ہے۔ اگر قرض خواہ اس قرض کو معاف کر دے اور نیت یہ کرے کہ میں زکوٰۃ ادا کر رہا ہوں تو کیا اس طرح زکوٰۃ ادا ہو جائے گی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

قرض دار کو قرض معاف کرتے وقت زکوٰۃ کی نیت کرنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی کیونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت یا زکوٰۃ کی رقم اپنے مال سے جدا کرتے وقت زکوٰۃ کی نیت کرنا ضروری ہے۔ چونکہ قرض خواہ نے جب یہ رقم قرض دار کو دی تھی تو اس وقت زکوٰۃ کی نیت نہیں پائی گئی اس لیے اب زکوٰۃ کی نیت کرنے کا اعتبار نہیں ہو گا۔

ہاں! یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ قرض دار اگر واقعتاً مستحقِ زکوٰۃ ہے  تو اس کو زکوٰۃ کی رقم دے دی جائے۔ جب وہ اس رقم پر قبضہ کر لے تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ اب اس سے یہی رقم قرض کی وصولی کی مد میں واپس لے لی جائے۔  اگر وہ قرض کی واپسی پر راضی نہ ہو تو یہ رقم اس سے جبراً بھی لی جا سکتی ہے۔ اس صورت میں زکوٰۃ بھی ادا ہو جائے گی اور قرض کی وصولی بھی۔

علامہ ابو البرکات عبد اللہ بن احمد بن محمود النسفی الحنفی (ت710ھ) لکھتے ہیں:

وَشَرْطُ أَدَائِهَا نِيَّةٌ مُقَارِنَةٌ لِلْأَدَاءِ أَوْ لِعَزْلِ مَا وَجَبَ.

                                               (کنز الدقائق: ص125 کتاب الزکاۃ)

ترجمہ: زکوٰۃ کی ادائیگی کی شرط یہ ہے کہ زکوٰۃادا کرتے وقت نیت پائی جائے یا واجب زکوٰۃ  کو اپنے مال سے جدا کرتے وقت نیت پائی جائے۔

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی  الحنفی(ت1088ھ)لکھتے ہیں:

وَحِيلَةُ الْجَوَازِ أَنْ يُعْطِيَ مَدْيُونَهُ الْفَقِيرَ زَكَاتَهُ ثُمَّ يَأْخُذَهَا عَنْ دَيْنِهِ ، وَلَوْ امْتَنَعَ الْمَدْيُونُ مَدَّ يَدَهُ وَأَخَذَهَا لِكَوْنِهِ ظَفِرَ بِجِنْسِ حَقِّهِ.

(الدر المختار مع رد المحتار: ج2 ص271 کتاب الزکاۃ)

ترجمہ: قرض خواہ کو  زکوٰۃ دینے کا جائز طریقہ یہ ہے کہ قرض خواہ اگر مستحق زکوٰۃ ہو تو اسے زکوٰۃ کی رقم دی جائے پھر اسی رقم کو اپنے قرض کی مد میں واپس لے لیا جائے۔ اگر قرض  دار یہ رقم دینے  سے انکار بھی کرے تب بھی زبردستی اس سے یہ رقم چھینی جا سکتی ہے کیونکہ یہ قرض خواہ کا حق ہے جو  وہ وصول کرنے پر قادر ہو چکا ہے۔

([1] )           یعنی اس شخص کی ملکیت میں ساڑھے سات تولے سونا (87.48 گرام) یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612.36 گرام)  یا سونے یا چاندی کی مذکورہ مقدار نہ ہو یا ہو لیکن اس مذکورہ مقدار سے کم ہو تو اب دیکھا جائے گا کہ اگر اس کی ملکیت میں یہ پانچ چیزیں  سونا ، چاندی ، نقدی ، مالِ تجارت گھر کا زائد از ضرورت سامان  موجود ہوں یا ان میں سے بعض موجود ہوں اور ان کی مجموعی قیمت  ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو ں تو اس شخص کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں! ہاں اگر اس مجموعہ کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم ہو تو اب زکوٰۃ دینا جائز ہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved