- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض خدمت یہ ہے کہ کیا کسی حدیث کے اندر یہ بات مذکور ہے کہ ایک شخص کو قبر کے اندر رکھا گیا اور جب منکر نکیر اس کے پاس آئے تو اس شخص نے کہا کہ پہلے مجھے نماز پڑھ لینے دو!
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سنن ابن ماجہ میں اس مضمون کی یہ روایت موجود ہے:
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “إِذَا دَخَلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ مُثِّلَتْ الشَّمْسُ عِنْدَ غُرُوبِهَا فَيَجْلِسُ يَمْسَحُ عَيْنَيْهِ وَيَقُولُ: دَعُونِي أُصَلِّي”.
(سنن ابن ماجۃ: رقم الحدیث 4272)
ترجمہ: حضرت جابر (بن عبد اللہ) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب میت قبر میں دفن ہوتی ہے تو اس کے سامنے غروبِ آفتاب کا وقت پیش کیا جاتا ہے۔ اس وقت میت اپنی آنکھوں کو ملتی ہوئی اٹھ بیٹھتی ہے اور کہتی ہے: مجھے چھوڑ دو تاکہ میں نماز پڑھ لوں۔
اس موقع پر اس روایت کی تشریح ذکر کرنا بھی فائدہ سے خالی نہ ہو گا۔ شارح مشکوٰۃ نواب قطب الدین دہلوی (ت1279ھ) اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں:
”با عمل مؤمن مردہ جس وقت قبر میں دفن کیا جاتا ہے تو وہ جس طرح دنیا میں ایمان و اسلام پر قائم رہا اور فرائضِ اسلام کی ادائیگی سے کبھی غافل نہ رہا اسی طرح قبر میں بھی اسے سب سے پہلے نماز ہی یاد آتی ہے۔ چنانچہ جب منکر نکیر اس کے پاس قبر میں حاضر ہوتے ہیں تو وہ سوال و جواب سے پہلے نماز ادا کرنے کے لئے کہتا ہے کہ پہلے میں نماز پڑھ لوں، اس کے بعد تمہیں جو کچھ کہنا سننا ہو کہہ سنو یا سوال و جواب کے بعد وہ یہ الفاظ کہتا ہے، اور وہ یہ خیال کرتا ہے کہ میں اپنے گھر والوں کے درمیان بیٹھا ہوں، اس کے شعور واحساس میں سب سے پہلے نماز ہی آتی ہے۔ یہ حالت اس کی رعایتِ حال پر دلالت کرتی ہے کہ گویا وہ ہنوذ (ابھی تک) دنیا میں ہی ہے اور سو کر ابھی اٹھا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو بندہ دنیا میں پکا نمازی ہو گا اور جس کی نماز کبھی قضاء بھی نہیں ہوتی ہو گی قبر میں بھی حسبِ عادت اسے پہلے نماز ہی یاد آئے گی۔“
© Copyright 2025, All Rights Reserved