• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

اعتکاف سے متعلق چند مسائل کا جواب

استفتاء

1:      اعتکاف میں گھر والوں کو معتکف کی یاد آئے تو کیا معتکف بہن اور ماں سے فون پر یا انہیں مل کر بات کر سکتا ہے؟

2:     معتکف کو احتلام ہو گیا  تو غسل کرنے کے لئے مسجد سے باہر جانے کے لیے مسجد میں ننگے پاؤں چلنا کیسا ہے؟

3:      غیر محرم کی طرف نظر پڑ گئی تو اعتکاف کا حکم ہے؟

4:      اعتکاف میں خاص کر کون سے اعمال کرنی چاہیے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

[1]: گھر والوں کو معتکف کی یاد آئے تو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے اور حتی الامکان بات کرنے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ معتکف اپنی عبادات میں مشغول رہے۔ ہاں! اگر کوئی بہت ہی اہم بات ہو تو فون پر کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح اگر ملنا بہت ضروری ہو تو گھر والے پردے کا خیال کرتے ہوئے مسجد میں آ کر مل بھی سکتے ہیں لیکن  معتکف کے لیے گھر جا کر ملنا جائز نہیں۔ اس سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔

دس دنوں کے اس مختصر سے وقت میں معتکف کو اعتکاف کے معمولات کرنے دیے جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔

[2]: احتلام ہونے پر فوراً تیمم کرے اور غسل کرنے کے لیے مسجد سے باہر نکل جائے۔  غسل کر کے جلد مسجد میں واپس آنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ننگے پاؤں چلنا جائز ہے۔

[3]: ایسی جگہ جہاں سے نامحرم پر نگاہ پڑ سکتی ہو تو وہاں ٹھہرنے یا دیکھنے سے اجتناب کرے۔  اگر ایسا ہو جائے تو فوراً اپنی نظریں  ہٹا لے اور توبہ اور استغفار کرے۔معتکف کو  یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ اعتکاف کرنے آیا ہے، بد نظری کرنے نہیں۔  اس لئے  نظروں کی حفاظت کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ایسا نہ ہو کہ اعتکاف میں نیکی کرنے کے بجائے کہیں گناہوں کا سامان نہ جمع کر  بیٹھے۔

[4]: اعتکاف میں تلاوت، نوافل، ذکراذکار، گناہوں سے توبہ، اپنے اور امتِ مسلمہ کے لیے دعاؤں جیسے اعمال کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اپنے ساتھ کوئی اسلامی لٹریچر بھی رکھا جائے جس کا وقتاً فوقتاً مطالعہ کرتا رہے۔

نوٹ:   اعتکاف کے دوران بندے کی کتاب ”اعتکاف کورس“ کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ مسائل اعتکاف کا بھی علم ہوتا رہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved