- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
آپ کے مسائل اور ان کا حل“ میں لکھا ہے کہ سرمہ یا تیل سر میں لگایا اور یہ سمجھا کہ اس کا روزہ ٹوٹ گیا اور کھا پی لیا تو اس پر کفارہ لازم ہے جبکہ اگر بھول کر کھا لیا اور سمجھا کہ روزہ ٹوٹ گیا اور کھا پی لیا تو قضا ہے، کفارہ نہیں۔ اس طرح کی باقی صورتوں میں بھی یہی حکم ہے۔ تو ان دونوں کے درمیان فرق کیا ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
روزہ توڑنے پر کفارہ کا حکم اس وقت عائد ہوتا ہے جب روزہ دار کی طرف سے جنایت (جرم) کامل طور پر پائی جائے۔ اگر اس جنایت میں کوئی شبہ پیدا کرنے والی چیز پائی جائے تو اب کفارہ کا حکم نہیں ہو گا۔اس وقت جنایت کامل نہیں بلکہ ناقص ہو گی۔
اب جنایت کامل ہے یا ناقص؟ یہ جاننے کے لیے نفسِ فعل کو دیکھا جائے گا جس کی بنیاد پر جنایت سرزد ہوئی ہے اگر نفسِ فعل ایسا ہے جس سے روزہ نہیں ٹوٹتا تو اب یہی سمجھیں گے کہ روزہ دار کی جنایت کامل ہے کیونکہ اس نے ایسی چیز کو بنیاد بنا کر روزہ توڑا ہے جو بنیاد بن ہی نہیں سکتی، اس لیے اسے رعایت نہیں ملے گی اور کفارہ لازم ہو گا، اور اگر نفسِ فعل ایسا ہو جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے تو اب یہی سمجھیں گے کہ روزہ دار کی جنایت ناقص ہے کیونکہ اس نے ایسی چیز کو بنیاد بنا کر روزہ توڑا ہے جو بنیاد بن سکتی ہے۔ اس لیے اسے رعایت ملے گی کہ کفارہ لازم نہ ہو گا۔
اس اصول کے پیشِ نظر دونوں مسئلوں میں فرق کی تفصیل یہ ہے کہ پہلے مسئلے میں سرمہ یا تیل لگانا یہ جنایت (جرم) کی بنیاد ہیں۔ چونکہ ان سے روزہ نہیں ٹوٹتا اس لیے جنایت کو کامل سمجھا جائے گا اور کفارہ کا حکم لگایا جائے گا جبکہ دوسرے مسئلہ میں کھانا پینا ایسی بنیادی ہیں جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اس لیے اس جنایت کو ناقص سمجھا جائے گا اور کفارہ کا حکم عائد نہ ہو گا۔
([1] ) رہا بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہ ٹوٹنا تو وہ ایک حدیث کی بنا پر ہے کہ میری امت سے بھول چوک کو معاف کر دیا گیا ہے، ورنہ کھانے پینے سے روزہ کا ٹوٹ جانا یقینی ہے۔ اس لئے علت میں نفسِ فعل کو بنیاد بنایا ہے (یعنی نفسِ اکل و شرب کو) نہ کہ صفتِ فعل کو (یعنی عمداً یا بھولنے کو بنیاد نہیں بنایا گیا)
© Copyright 2025, All Rights Reserved