• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

محنت کے باوجود ارادوں کی تکمیل نہ ہونے کی وجہ

استفتاء

جاب   (Job)کا دیرینہ مسئلہ حل نہ ہوتا ہو  تو کیا یہ گناہوں کی وجہ سے ہوتا ہے یا اس کی وجہ کوئی جادو یا نظر بد ہوتی ہے؟  میں کافی عرصہ سے کوشش کر رہا ہوں لیکن مسئلہ پھر بھی حل نہیں ہوتا۔  پانچ  سال ہو گئے ہیں۔ نماز الحمد للہ  پانچ وقت پڑھتا ہوں اور ذکر واذکار بھی کرتا ہوں لیکن مسئلہ پھر بھی حل نہیں ہوتا۔ کیا مسئلہ کا حل نہ ہونا کسی گناہ کا نتیجہ ہو سکتا ہے یا جادو ونظرِ بد کا؟ جواب دے کر ممنون فرمائیں۔ شکریہ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

۱:     دنیا تمام خواہشات کی تکمیل کی جگہ نہیں ہے بلکہ انسانی خواہشات کی کامل تکمیل جنت میں ہو گی۔ دنیا دار الامتحان ہے۔ کچھ خواہشات یہاں پوری ہوں گی اور باقی تمام خواہشات کی تکمیل اس دنیا میں نہیں بلکہ جنت میں  ہوگی۔ اس لیے اولاً تو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہر ارادے اور خواہش کی تکمیل اس دنیا میں ممکن نہیں اگرچہ انسان اس کے لئے ہر ممکن کوشش بھی کر چکا ہو۔

۲:     انسان اپنی بساط کے مطابق کوشش کرے اور کام ہونے کے تمام اسباب پر عمل پیرا بھی ہو لیکن کام نہ ہو رہا ہو تو یہ گناہوں کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش بھی۔ اس لیے اگر کام نہ ہو رہا ہو تو اپنے اعمال پر غور کرنا چاہیے کہ کہیں میرے عمل میں کوئی کوتاہی تو نہیں ہو رہی یا کسی عمل کی انجام دہی جس طریقہ سے کرنی چاہیے تھی وہ میں کر بھی رہا ہوں یا نہیں! اور یہ بات قابلِ تسلیم ہے کہ ہم لوگ اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کر جاتے ہیں۔ اس لئے کام نہ ہونے کو اپنی کوتاہی شمار کیا جائے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش تصور کیا جائے۔ آزمائش میں انسان کے صبر وتحمل اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے کا امتحان ہوتا ہے۔ اس لیے کام نہ ہونے کی صورت میں بھی صبر کا دامن تھا مے رہنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی پر راضی رہنا چاہیے ۔

۳:     ”کام کا نہ ہونا“ یہ گناہوں کا نتیجہ ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہے؟ اس کے لیے معیار یہ ہے کہ اگر کیفیت یہ پیدا ہوتی ہے کہ بندے میں بے صبری، شکوہ شکایت اور واویلا کرنے جیسی خصلتیں پیدا ہو جاتی ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ میرے گناہوں کا نتیجہ ہے اور اگر حالت یہ ہو کہ صبر و استقامت، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اس پر یقین بحال ہے تو سمجھنا چاہیے کہ یہ آزمائش ہے۔ اس لیے اگر محسوس ہو کہ یہ گناہوں کا نتیجہ ہے تو گناہوں کو چھوڑنے کی کوشش کی جائے اور اگر محسوس ہو کہ یہ آزمائش ہے تو صبر و استقامت کا دامن تھامے رہنا چاہیے۔

۴:      جادو اور نظر بد میں بھی تاثیر رکھی گئی ہے اس لئے اس پہلو سے بھی غافل نہیں رہنا چاہئے۔اس کے لیے  کسی مستند عامل سے رابطہ کر کے اپنی صورت حال اس کے سامنے پیش کرنی چاہیے تاکہ اگر کچھ اثرات ہوں تو شرعی حدود میں رہتے ہوئے ان کے ازالے کی کوشش کی جائے۔

ان امور پر توجہ دیجیے! ان شاء اللہ دلی کیفیت درست ہو جائے گی اور کام نہ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ،  رضا بالقضاء اور اپنی اصلاح کی فکر ضرور پیدا ہو گی۔۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved