- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کیا ہر نماز کے قعدہ اخیرہ میں دعائے ماثورہ کے بعد کوئی دعا پڑھ سکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جی ہاں! پڑھ سکتے ہیں بشرطیکہ وہ دعائے ماثورہ کے مشابہ ہو۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز ادا کرے تو قعدہ میں التحیات پڑھنے کے بعد اسے اختیار ہے کہ جو دعا مانگے۔ روایت کے الفاظ یہ ہے:
ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُو.
(صحیح البخاری: رقم الحدیث 835، صحیح مسلم: رقم الحدیث 402)
ترجمہ: پھر نمازی کو (تشہد پڑھنے کے بعد) اختیار ہے کہ جو دعا اسے اچھی لگے اللہ سے مانگے۔
علامہ زین الدین بن ابراہیم المعروف ابن نجیم الحنفی (ت970ھ) لکھتے ہیں:
(قوله: ودعا بما يشبه ألفاظ القرآن والسنة لا كلام الناس) أي بالدعاء الموجود في القرآن، ولم يردحقيقة المشابهة ؛ إذ القرآن معجز لا يشابهه شيء، ولكن أطلقها ؛ لإرادته نفس الدعاء .
(البحر الرائق شرح كنز الدقائق: ج1 ص 349)
ترجمہ: ماتن نے کہا کہ تشہد کے بعد ان الفاظ کے ساتھ دعا کرے جو قرآن اور سنت کے الفاظ کے مشابہ ہوں، نہ کہ ان الفاظ سے جو لوگوں کے کلام سے مشابہت رکھتے ہوں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ یہ دعا ان دعاؤں کے مشابہ ہوں جو دعائیں قرآن میں موجود ہیں۔ اس سے مراد حقیقتاً مشابہ ہونا نہیں کیونکہ قرآن معجز کلام ہے اور کوئی کلام بھی قرآن کے مشابہ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ماتن سے مطلقا کہا تاکہ نفس دعا مراد ہو۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved