• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کاروبار میں لگائی ہوئی رقم پر زکوٰۃ کا حکم

استفتاء

میں نے ایک کاروبار میں حصّہ ڈالا (investment) اور ایک سال نہیں ہوا۔ اس پر زکوٰۃ ہے یا نہیں  ؟ اگر اس پر زکوٰۃ ہے تو میں ادا کروں گا یا کاروبار کے اکاؤنٹ سے ادا کی جائے گی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

کاروبار میں انویسٹ کی ہوئی رقم پر  زکوٰۃ واجب ہونے کے حوالے سے یہ دیکھ لیجیے کہ آپ نے زکوٰۃ کے حساب کے لیے جو اسلامی تاریخ مقرر کی ہوئی ہے اس تاریخ کے آنے پر آپ نے کاروبار میں جتنی رقم انویسٹ کی ہے اس انویسٹ شدہ رقم کا حساب کر کے اسے قابل زکوٰۃ اموال میں شامل  کر کے زکوٰۃ نکالی جائے گی۔ حساب کا طریقہ یہ ہو گا:

1:      اس رقم سے جو اشیاء؛ فروخت کرنے کے لیے خریدی گئی ہوں یا کوئی خام مال خریدا گیا ہو تو اسے قابلِ زکوۃ اموال میں شامل کیا جائے گا۔

2:      جس رقم سے کاروباری ضرورت کی اشیاء مثلاًفرنیچر، مشینری، آلات وغیرہ خریدے گئے ہوں انہیں قابلِ زکوۃ اموال میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

3:      اگر اس کاروبار سے کچھ نفع حاصل ہوا ہو تو اسے بھی قابل زکوٰۃ اموال میں شامل کیا جائے گا۔

اس اعتبار سے کاروبار میں انویسٹ شدہ رقم کی زکوٰۃ نکالی جائے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved