- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک سوال ہے کہ پہلے اسکولوں میں تمام ہی بچوں کو حکومت کی طرف سے مِڈڈے میل اسکیم (Midday Meal Scheme) کے نام سے کھچڑی یا کوئی اور کھانے کی اشیاء تقسیم کی جاتی تھیں۔ وہ اس لئے کہ کوئی بھی بچہ بھوکا نہ رہے۔ اب کرونا بیماری کی وجہ سے اسکولز بند ہیں اور ایسے میں تمام بچوں کو حکومت کی جانب سے کچے دال، چاول اور چنا وغیرہ تقسیم کیے جاتے ہیں۔ تو اس صورت میں کیا یہ تمام چیزیں بچوں کے ساتھ ان کے گھر کے سب افراد استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
نابالغ بچوں کو جو تحفہ تحائف اور اشیاء ملتی ہیں وہ کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ ہر قسم کا حکم الگ بیان کیا جاتا ہے۔
[1]: بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو بچوں ہی کے استعمال اور ان کی ضروریات کے موافق ہوا کرتی ہیں۔ مثلاً بچوں کے کپڑے اور ان کے کھلونے۔ ان اشیاء کا حکم یہ ہے کہ یہ فقط انہی بچوں کو دی جائیں جنہیں یہ چیزیں ملی ہیں، دوسرے بچوں کو دینا جائز نہیں۔
[2]: اگر کوئی شخص ایک چیز بچے کو ہدیہ دے اور صراحت کر دے کہ یہ اسی بچے ہی کے لئے ہے تو اب اس چیز کو اس بچے کے علاوہ کسی اور مصرف میں استعمال کرنا جائز نہیں ۔
[3]: اگر یہ اشیاء بچوں کے استعمال کے لیے مخصوص نہ ہوں بلکہ عام ہوں تو علاقہ کے ماحول اور عرف کو دیکھا جائے گا۔ اگر عرف یہ ہو کہ دینے والے افراد یہ اشیاء بچوں کے والدین کو ہی دیتے ہیں، ظاہراً نام فقط بچے کا ہوتا ہے۔ تو ان چیزوں کے مالک والدین ہوں گے۔ وہ ان میں جو تصرف کرنا چاہیں انہیں اختیار ہو گا۔ جیسے عقیقہ وغیرہ کے موقع پر بچوں کو تحفہ دینے سے مقصود والدین ہی کو تحفہ دینا ہوتا ہے۔ لہذا ان اشیاء میں والدین کو تصرف کا اختیار ہے ۔
[4]: بعض جگہ پر یہ عرف رائج ہوتا ہے کہ اشیاء دینے والا یہ اشیا اگرچہ بچوں کو دے رہا ہوتا ہے لیکن وہ سمجھتا ہے کہ یہ اشیاء بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی استعمال کریں گے۔ جیسے کوئی مہمان کسی کے گھر جائے اور کھانے پینے کی چند اشیاء ساتھ لے جائے اور بچے کو دے تو مقصود یہی ہوتا ہے کہ بچہ بھی استعمال کرے اور بڑے بھی استعمال کریں گے۔ ان اشیاء کا حکم یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کو استعمال کرنا بھی درست ہے۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ سوال میں ذکر کردہ اشیاء جو بچے کو ملی ہیں یہ چوتھی قسم سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ یہ چیزیں دینے والوں کی نیت یہی ہوتی ہے کہ بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی ان اشیاء کو استعمال کریں۔ نیز ان اشیاء کے بارے میں عرف بھی عام طور پر یہی رائج ہے۔ اس لئے بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کے لیے بھی ان اشیاء کو استعمال کرنا جائز ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved