- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض خدمت اقدس میں ایں کہ سفلی عملیات جوکہ کفر و شرک سے بھرے ہوتے ہیں اگر کسی پر سفلی جادو کراوادیا جائے تو وہ کسی سفلی عامل سے علاج کروا سکتا ہے؟ اگر وہ سفلی عامل غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرکے اس کے خون سے شرکیہ کفریہ تغویذ بنا کر دے تو کیا بطور علاج کے اسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سفلی عمل کا توڑ سفلی عمل کے ذریعے کرنے کے لیے درج ذیل شرائط ہیں:
1: یہ بات یقینی طور پر معلوم ہو کہ مریض پر سفلی عمل ہی کروایا گیا ہے۔
2: شریعت کے مطابق جو جائز طریقہ ہائے علاج ہیں ان سے نفع حاصل نہ ہو رہا ہو۔
3: یہ بات بھی یقینی ہو کہ سفلی عمل کا توڑ سفلی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
4: سفلی عمل کروانے کا مقصد اپنے اوپر کیے گئے جادو کا توڑ ہو، کسی کو نقصان پہنچانا نہ ہو۔
5: یہ سفلی عمل کسی غیر مسلم سے کروایا جائے، مسلمان کے لیے یہ عمل کرنا جائز نہیں۔
6: غیر مسلم عامل جب توڑ کرے تو مسلمان مریض سے کوئی کفریہ کلمہ نہ کہلوائے، کوئی شرکیہ عمل نہ کروائے، کوئی ایسی چیز اس مسلمان کو نہ کھلائے جو حرام یا نجس ہو۔
ان شرائط کی کامل پاسداری کی جائے تو سفلی عمل کا توڑ کروانے کی گنجائش ہے۔
آپ نے سوال میں جو طریقہ علاج لکھا ہے یہ طریقہ مذکورہ شرائط پر پورا نہیں اترتا، اس لیے اس قسم کا علاج کروانا جائز نہیں ہے۔ اس سے اجتناب لازم ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved