- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بچی کو شادی کے موقع پر جہیز دینا کیسا ہے؟ برائے کرم رہنمائی فرما دیجیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ذیل میں چند باتیں پیش کی جاتی ہیں جن سے شادی کے موقع پر جہیز کے حوالے سے راہِ اعتدال واضح ہو جائے گی۔
۱: والدین اگر بیٹی کو رخصت کرتے وقت اپنی حیثیت کے مطابق تحفہ تحائف یا آئندہ زندگی میں کام آنے والی اشیاء کسی دباؤ اور دلہا والوں کے مطالبہ کے بغیر محض صلہ رحمی اور شفقت و محبت کے جذبہ کے پیش نظر دے دیں تو یہ جائز ہے، ممنوع نہیں ہے۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی (ت1362ھ) لکھتے ہیں:
”جہیز جو در حقیقت اپنی اولاد کے ساتھ صلہ رحمی ہے فی نفسہ امر مباح بلکہ مستحسن ہے (اصلاح الرسوم)۔ اگر خدا کسی کو دے تو بیٹی کو خوب دینا برا نہیں مگر طریقہ سے ہونا چاہیے جو لڑکی کے کچھ کام بھی آئے۔ (حقوق البیت) جہیز میں اس امر کا خیال رکھنا چاہیے: (۱) اختصار یعنی گنجائش سے زیادہ کوشش نہ کرے۔ (۲) ضرورت کا لحاظ کرے یعنی جن چیزوں کی سردست ضرورت واقع ہو دینا چاہیے۔ (۳) اعلان نہ ہو کیوں کہ یہ تو اپنی اولاد کے ساتھ صلہ رحمی ہے، دوسرے کو دکھلانے کی کیا ضرورت ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے جو اس روایت میں مذکور ہے تینوں امرثابت ہیں۔“
(اسلامی شادی، افادات حضرت تھانوی: ص138 بحوالہ حقوق البیت واصلاح الرسوم)
۲: یہ تحفہ تحائف اور ساز و سامان دینے میں نمود و نمائش کو دخل ہو یا سامان اپنی حیثیت سے بڑھ کر دیا جائے یا قرض اٹھا اٹھا کر نام وری اور عزت بچانے کا عنصر شامل ہو یا سامان دینے کی غرض و راثتی حق سے محروم کرنا ہو تو بلاشبہ یہ سامان دینا نا جائز اور گناہ ہے۔
۳: مروّجہ جہیز کا دلہا والوں کی طرف سے مطالبہ کر کے لینا اور اس پر زور زبردستی دکھانا بالکل حرام اور ناجائز ہے۔ حدیث مبارک میں اس پر سخت وعید آئی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
“لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ.”
(شعب الایمان للبیہقی: رقم الحدیث 5105)
ترجمہ: کسی مسلمان کا مال اس کی خوش دلی کے بغیر لینا جائز نہیں۔
دورِ حاضر میں ”جہیز“ کے نام پر ایک طرف نمود و نمائش اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر ساز و سامان دینے کی کوشش کی جاتی ہے تو دوسری طرف جہیز نہ ہونے کی وجہ سے دلہا والوں کے طعنے یا لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنا کر اس کے لیے جینا حرام کر دیا جاتا ہے۔ یہ دونوں جہتیں ہمارے معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔اس کی وجہ سے کئی مفاسد جنم لیتے ہیں۔ بیٹیوں کے بالوں میں چاندی آ جاتی ہے لیکن محض ”جہیز“ نہ ہونے کی وجہ سے نکاح میں تاخیر کر دی جاتی ہے جو بہت بڑا گناہ ہے۔ اس لیے مروّجہ جہیز کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور سادگی کے نکاح کو فروغ دینا چاہیے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved