- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
1: روزے کی حالت میں ناف میں تیل کی مالش کرنے سے روزے کا کیا حکم ہے؟
2: بعض لوگوں کے کان میں صفائی نہ ہونے کی وجہ سے تعفن ہوتا ہے۔ اس کے لیے حکماء ایک تیل تیار کرتے ہیں جسے کان میں ڈالا جائے تو وہ اندرونی مواد کو تحلیل کر کے باہر نکالتا ہے۔ اس تیل کے قطرے روزے کی حالت میں کان میں ٹپکائے جائیں تو روزے کا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1): روزہ ٹوٹنے نہ ٹوٹنے کا مدار اس بات پر ہے کہ اگر کوئی چیز مَنْفَذ اصلی (یعنی جسم کے وہ راستے جن کے ذریعے کوئی چیز براہِ راست جسم میں داخل ہو جیسے منہ، ناک، مقعد وغیرہ) کے ذریعے جسم میں داخل ہو تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے ورنہ نہیں۔ ناف ؛ مَنْفَذ اصلی نہیں ہے اس لیے اس کی مالش سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
(2): اس بارے میں کچھ تفصیل ہے: اگر کان کا پردہ پھٹا ہوا ہو تو دوائی یا تیل ڈالنے کی صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا اور اگر کان کا پردہ صحیح سالم ہو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
احتیاط کی جائے کہ روزے کی حالت میں کان میں تیل نہ ہی ڈالا جائے تو بہتر ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved