- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ اگر رمضان المبارک میں خواتین تراویح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھیں اور عورت اپنے محرم امام کو لقمہ دے ( قرأت بتائے ) تو کیا یہ جائز ہے ؟ براہ کرم رہنمائی فرما دیجئے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
صحیح قول کے مطابق عورت کی آواز کا پردہ نہیں ہے البتہ اجنبی مردوں کے سامنے آواز بلند کرنے سے منع کیا جانا فتنے سے بچاؤ کے لئے ہے۔ اس لئے اگر تراویح پڑھانے والا امام اس عورت کا محرم ہو اور کوئی نا محرم مرد اس جماعت میں شامل نہ ہو تو عورت اپنے محرم امام کو لقمہ دے سکتی ہے۔
علامہ زین الدین بن ابراہیم بن محمد المعروف ابن نجیم الحنفی (ت970ھ) لکھتے ہیں:
وَفِيْ شَرْحِ الْمُنْيَةِ: الْأَشْبَهُ أَنَّ صَوْتَهَا لَيْسَ بِعَوْرَةٍ وَإِنَّمَا يُؤَدِّي إلَى الْفِتْنَةِ كَمَا عَلَّلَ بِهِ صَاحِبُ الْهِدَايَةِ وَغَيْرُهُ فِي مَسْأَلَةِ التَّلْبِيَةِ وَلَعَلَّهُنَّ إنَّمَا مُنِعْنَ مِنْ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالتَّسْبِيحِ فِي الصَّلَاةِ لِهٰذَا الْمَعْنَى وَلَا يَلْزَمُ مِنْ حُرْمَةِ رَفْعِ صَوْتِهَا بِحَضْرَةِ الْأَجَانِبِ أَنْ يَكُونَ عَوْرَةً.
(البحر الرائق شرح كنز الدقائق : ج1 ص285)
ترجمہ: شرح المنیۃ میں لکھا ہے کہ صحیح بات یہی ہے کہ عورت کی آواز کا پردہ نہیں ہے۔ ہاں عورت کی آواز بلند کرنے سے فتنہ پیدا ہوتا ہے جیسا کہ صاحبِ ہدایہ وغیرہ نے عورت کے اونچی آواز میں تلبیہ نہ کہنے کی وجہ یہی بیان کی ہے۔ اسی وجہ سے (کہ فتنہ پیدا نہ ہو) عورت کے لئے نماز میں سبحان اللہ کہہ کر لقمہ دینا ممنوع ہے۔ باقی اجنبیوں کے سامنے آواز اونچی کرنے کے حرام ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved