- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
1: ایک شخص نے تجارت کی نیت سے ایک پلاٹ خریدا۔ دو سال تک اس پلاٹ کو تجارت کی نیت سے ہی اپنے پاس رکھا اور اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی۔ اب اس شخص نے تجارت کی نیت بدل کر اُس پلاٹ پر مکان بنا لیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس مکان کو کرایہ پر دوں گا۔ اس صورتحال میں کیا گزشتہ ان دو سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے جن میں اس نے یہ پلاٹ تجارت کی نیت سے اپنے پاس رکھا؟
2: ایک شخص نے تجارت کی غرض سے ایک پلاٹ خریدا۔ بعد میں اس کی نیت تبدیل ہو جائے اور وہ پلاٹ کو اپنے پاس رکھنے کا ارادہ کر لے تو کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟
3: ایک شخص نے ایک پلاٹ اپنی رہائش کے لیے خریدا۔ بعد میں اس کی نیت یہ بنی کہ اس کو فروخت کرنا ہے۔ کیا اس پر بھی زکوٰۃ واجب ہو گی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
کون سا مال ”مالِ تجارت“ شمار ہو کر قابلِ زکوٰۃقرار پاتا ہے اور کون سا نہیں؟ اس کے لئے ایک اصول سمجھ لیا جائے۔ اصول یہ ہے کہ اگر کوئی چیز فروخت کرنے کی نیت سے خریدی جائے اور سال کے پورا ہونے پر یہ نیت باقی بھی ہو تو اسے ”مالِ تجارت“ کہا جاتا ہے۔ اگر کسی چیز کو خریدتے وقت تجارت کی نیت نہ تھی یا تجارت کی نیت تو تھی لیکن سال پورا ہونے سے پہلے نیت تبدیل ہو گئی تو اب یہ چیز مال تجارت ہونے سے خارج ہو جائے گی۔
اس اصول کے تحت آپ کے سوالات کے جوابات یہ ہیں:
[1]: جتنے سال پلاٹ کو تجارت کی نیت سے اپنے پاس رکھا ہے اتنے سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے کیونکہ یہ پلاٹ اس مدت میں مالِ تجارت کے طور پر اس شخص کی ملکیت میں رہا ہے۔
[2]: اس پر زکوٰۃ واجب نہ ہو گی کیونکہ نیت تبدیل ہونے کی وجہ سے یہ مالِ تجارت نہ رہا۔
[3]: اس پر بھی زکوٰۃ واجب نہ ہو گی کیونکہ یہ مال تجارت ہی نہیں۔
علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی الحنفی(ت1088ھ) اس اصول کو مثال سے واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
( لَا يَبْقٰى لِلتِّجَارَةِ مَا ) أَيْ عَبْدٌ مَثَلًا ( اشْتَرَاهُ لَهَا فَنَوٰى ) بَعْدَ ذٰلِكَ ( خِدْمَتَهُ ثُمَّ) مَا نَوَاهُ لِلْخِدْمَةِ ( لَا يَصِيرُ لِلتِّجَارَةِ ) وَإِنْ نَوَاهُ لَهَا.
(الدر المختار للحصکفی: ج 2 ص 272)
ترجمہ: جو چیز تجارت کی نیت سے خریدی جائے، پھر نیت تبدیل ہو جائے تو وہ مالِ تجارت نہیں رہتی۔ جیسے کسی نے ایک غلام تجارت کی نیت سے خریدا، پھر نیت کر لی کہ اس سے خدمت لوں گا تو اب یہ غلام؛ مالِ تجارت نہ رہا۔ اسی طرح اگر غلام کو خدمت کی نیت سے خریدا تو بھی یہ مالِ تجارت نہ بنے گا اگرچہ (خریدنے کے بعد)اس نے تجارت کی نیت بھی کر لی ہو۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved