- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کاشت سے چند دن پہلے مالکِ زمین اور خریدار کے درمیان معاہدہ طے ہوتا ہے۔ معاہدہ کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مالکِ زمین طے شدہ وزن کے بیچ (مثلاً 40 کلو گرام) اپنی زمین میں بوئے گا، پانی کی اتنی باریاں لگائے گا، اتنی سپرے کرے گا، کھاد کی اتنی مقدار ڈالے گا وغیرہ۔ان اشیاء کی مذکورہ مقدار کے نتیجے میں جتنی بھی فصل پیدا ہوئی وہ خریدار اسے خریدنے کا پابند ہو گا۔ اس معاہدہ کے نتیجے میں رقم بھی مقرر کی جا چکی ہے۔ کیا روحِ شریعت اس عمل کی اجازت دیتی ہے؟ وگرنہ صحیح عمل کیا کیا جائے؟ مالک کہتا ہے کہ میں گھاس کاشت ہی تب کروں گا جب ریٹ مقرر کرتے ہو چاہے مارکیٹ اپ یا ڈاؤن ہو؟ کاشت گھنی ہو یا کم ہو ! نیز اس بات کی وضاحت بھی فرما دیں کہ عشر کس پر ہو گا جب کہ فریقین کی وجہ سے کاشت مشروط ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[1]: جو صورت آپ نے تحریر کی ہے اس میں گھاس کے بارے میں یہ یقین نہیں کہ اُگے گا یا نہیں اور اُگے گا تو کتنی مقدار میں ہو گا؟ اس لیے پیداوار مجہول ہونے کی وجہ سے خرید وفروخت کا یہ معاملہ کرنا درست نہیں۔ البتہ اس معاملہ کے جواز کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:
۱: یہ معاہدہ عقدِ سَلَم کے طریقے سے کیا جائے یعنی مالکِ زمین اور خریدار باہمی طور پر گھاس کی قسم، مقدار، ادائیگی اور قیمت طے کر لیں کہ مثلاً خریدار دو ماہ بعد فلاں گھاس اتنی مقدار میں اتنی قیمت کے عوض مالکِ زمین سے وصول کرے گا۔
۲: مالکِ زمین اپنے خرچ سے گھاس کاشت کرے۔ جب فصل تیار ہو جائے تو اب مالکِ زمین؛ خریدار کو باہمی رضامندی سے قیمت طے کر کے فروخت کر دے۔
[2]: اس پیداوار کا عشر مالکِ زمین پر واجب ہو گا نہ کہ خریدار پر۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved