- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اگر کسی نے مسجد میں پیسے دینے کے لیے نیت کر کے رکھے ہوں تو کیا وہ پیسے مدرسے میں دے سکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ نفلی صدقہ ہے۔ نفلی صدقہ کا حکم یہ ہے کہ اس کی رقم جب تک مالک کے پاس موجود ہو اس میں تصرف کر سکتا ہے۔ اس لیے مسجد کی نیت سے رکھی گئی رقم کو مدرسہ میں دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔ یوں کہا جائے گا کہ اس شخص کی نیت بدل گئی ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved