• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کسی خانقاہ میں اعتکاف کرنے کے لیے جانا

استفتاء

ہمارے بعض حضرات رمضان المبارک میں اعتکاف کے لیے مختلف خانقاہوں میں چلے جاتے ہیں۔ کیا شریعت میں اس کا ثبوت ہے؟  دلائل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

کسی شیخ طریقت کی خانقاہ میں جانے اور وہاں مساجد میں اعتکاف کرنے کے حوالے سے دو امور ملوظ ہوتے ہیں:

1:      اعتکاف کی فضیلت و برکت کا حصول

2:      شیخ طریقت کی صحبت میں تزکیہ نفس

محلہ کی مسجد میں اہلیان محلہ میں سے کوئی ایک شخص بھی اعتکاف کر لے تو پورے محلہ کی جانب سے سنت موکدہ علی الکفایہ ادا ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد کسی بھی مسجد میں اعتکاف کیا جائے تو شرعاً درست ہوتا ہے۔

عن حذيفة رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : “كل مسجد له مؤذن وإمام فالاعتكاف فيه يصلُح.”

(سنن الدار قطنی: رقم الحدیث2323)

ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر وہ مسجد جس کا مؤذن اور امام ہو تو اس میں اعتکاف کرنا درست ہے۔

اس روایت کی رو سے ہر مسجد میں اعتکاف درست ثابت ہوتا ہے چاہے وہ محلہ کی ہو یا کسی اور جگہ کی البتہ محلہ کی مسجد کو قریب ہونے کی وجہ سے اولیت حاصل ہے۔ اگر اس میں کوئی شخص اعتکاف کر لے تو باقی لوگوں کے لیے  دوسری مساجد میں جانا جائز ہے۔

شیوخ طریقت کی خانقاہوں میں موجود مساجد میں اعتکاف کرنے سے اعتکاف کی فضیلت کے ساتھ ساتھ شیوخ کی صحبت بھی میسر آتی ہے جو اصلاحِ نفس  کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اصلاحِ نفس خود شریعت میں مطلوب ہے۔ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں نفس کی اصلاح پر زور دیا گیا ہے  اور  اس کے لیے  صحبت کو اہم قرار دیا گیا ہے۔

﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا؁  وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا؁﴾

                                                                (سورۃ الشمس: 9، 10)

ترجمہ: یقینا وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا اور وہ شخص ناکام ہو گیا جس نے اپنے نفس کو آلود ہ کیا۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ ؀﴾

(سورۃ التوبۃ: 119)

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور (تقویٰ میں) سچے لوگوں کے ساتھ رہو!

اس سے ثابت ہوا کہ تقویٰ کا حصول تقویٰ اور پرہیزگاری میں سچے لوگوں کی صحبت میں ہی حاصل ہو گا۔

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے:

اَللّٰهُمَّ آتِ نَفْسِيْ تَقْوَاهَا ، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا.

(صحیح مسلم: رقم الحدیث 2722)

ترجمہ: اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا  فرمااور اس کو پاکیزگی نصیب فرما کیونکہ تو ہی سب سے بہترین پاکیزگی نصیب کرنے والا ہے۔

ان وجوہات کے پیشِ نظر مشائخ کے ہاں خانقاہوں میں موجود مساجد میں اعتکاف کے لئے جانا جائز ہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved