- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک صف میں ایک شخص کھڑا نماز پڑھ رہا ہے۔ ایک اور شخص آیا اور اس سے پچھلی صف میں بالکل سیدھ میں اس شخص کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ اگلی صف والے شخص نے اپنی نماز مکمل کی۔ پچھلی صف والا شخص ابھی نماز میں مشغول ہے۔ اگلی صف والا شخص اب دائیں یا بائیں نکل سکتا ہے یا نہیں؟ اسے گناہ تو نہیں ہو گا؟ اور کیا اگلی صف والے شخص کے گزرنے کی وجہ سے پچھلی صف والے شخص کی نماز ٹوٹ جائے گی یا نہیں؟ یا کوئی فرق نہیں پڑے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگلی صف میں کھڑا ہوا شخص اپنی نماز مکمل کرنے کے بعد بلا تکلف اور بغیر کسی وسوسہ کے دائیں بائیں نکل سکتا ہے۔ اس سے نہ تو اسے کوئی گناہ ہو گا اور نہ ہی پیچھے کھڑے ہونے والے شخص کی نماز میں کوئی فرق آئے گا۔
عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بَلَغَهَا أَنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ الصَّلَاةَ يَقْطَعُهَا الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ قَالَتْ: أَلَا أَرَاهُمْ قَدْ عَدَلُونَا بِالْكِلَابِ وَالْحُمُرِ! رُبَّمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ وَأَنَا عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَتَكُونُ لِي الْحَاجَةُ فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ السَّرِيرِ.
(مسند احمد: رقم الحدیث 24153)
ترجمہ: حضرت اسود سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات معلوم ہوئی کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کتا، گدھا اور عورت (جب نمازی کے سامنے ہوں تو) نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ تو اس پر آپ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ کیا میں لوگوں کو اس طرح نہیں دیکھ رہی کہ انہوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برا برکر دیا ہے حالانکہ بسا اوقات ایسے بھی ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے رہے ہوتے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان ایک چارپائی پر لیٹی ہوتی تھی۔ جب مجھے کوئی ضرورت پڑتی (اور میں وہاں سے اٹھنا چاہتی) تو چارپائی کی پاؤں والی طرف سے کھسک جاتی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے ایک طرف نکل جانے سے ثابت ہوا کہ نمازی کے آگے بیٹھے شخص کا ایک طرف نکلنا جائز ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کو جاری رکھنے سے ثابت ہوا کہ اس عمل سے نمازی کی نماز نہیں ٹوٹتی۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved