• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کیا شیطان خواب میں اللہ تعالیٰ کی صورت اختیار کر سکتا ہے؟

استفتاء

ہمارا اھل السنۃ والجماعۃ احناف دیوبند کا عقیدہ ہے   کہ شیطان؛ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت بن کر خواب میں نہیں آ سکتا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کی صورت بن کر آ سکتا ہے؟  اگر آ سکتا ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تو کوئی صورت ہی نہیں!

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس بارے میں چند امور ملاحظہ فرمائیں:

(1):    اللہ تعالیٰ جسم اور صورت سے پاک ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا دیدار ممکن ہے۔ یہ دیدار جسم، کیفیت اور تشبیہ کے بغیر ہوتا ہے۔ عالَم دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار تو ممکن نہیں لیکن عالَم خواب میں اور عالَم آخرت میں دیدار ممکن ہے۔ عالَم آخرت میں دیدار کرنا اس حدیث سے ثابت ہے۔

عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقَالَ: “أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هٰذَا لَا تُضَامُّوْنَ فِي رُؤْيَتِهٖ”.

   (صحیح البخاری:   رقم الحدیث 573)

ترجمہ:   حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم  کی خدمت میں حاضر تھے، آپ علیہ السلام نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا:  تم اپنے رب کو ایسے دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو،  اس کے نور و جمال کو دیکھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے گی۔

کئی ایک اکابر نے خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا ہے۔ علامہ محمد امین بن عمر بن عبد العزیز بن احمد ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:

أَنَّ الْإِمَامَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : رَأَيْتُ رَبَّ الْعِزَّةِ فِي الْمَنَامِ تِسْعًا وَتِسْعِينَ مَرَّةً فَقُلْت فِي نَفْسِي إنْ رَأَيْته تَمَامَ الْمِائَةِ لَأَسْأَلَنَّهُ : بِمَ يَنْجُو الْخَلَائِقُ مِنْ عَذَابِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .

 (رد المحتار: ج1 ص48 شرح المقدمۃ)

ترجمہ: امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رب ا لعزت کو  ننانوے مرتبہ خواب میں دیکھا تو میں نے اپنے دل میں کہا کہ ”اگر  میں سویں  مرتبہ رب ا لعزت کو  خواب میں دیکھوں تو اللہ تعالیٰ سے ایسا عمل پوچھوں گا جس کی وجہ سے اس کی مخلوق کو اس کے عذاب سے نجات ہو۔“

(2):    شیطان خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں نہیں آ سکتا۔ اس پر صریح حدیث موجود ہے:

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ  فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِيْ.”

 (صحیح مسلم: 2266)

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے خواب میں مجھے دیکھا ہے تو بلاشبہ اس نے مجھے ہی دیکھا ہے کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا۔

شیطان ؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی شکل میں خواب میں نہیں آ سکتا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور ذات کی صورت میں اس کا آنا ممکن ہے اس لئے حق تعالیٰ شانہ کی صورت میں بھی آ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات چونکہ جسم اور کیفیات سے پاک ہے اس لئے حق تعالیٰ شانہ کی رؤیت بغیر کیفیت اور تشبیہ کے ہوتی ہے لیکن اگر شیطان؛ حق تعالیٰ شانہ کی حیثیت سے افتراء کرنا چاہے تو وہ جسم، شکل و صورت اور کیفیت کے ساتھ ہی ظاہر ہو گا ۔

(3):    شیطان؛ اللہ تعالیٰ کی حیثیت سے خواب میں آ کر افتراء کر  سکتا ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں نہیں آ سکتا۔ اس کی دو وجوہات سمجھ لی جائیں:

1:      آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سرچشمہ ہدایت ہے جبکہ شیطان منبع ضلالت ہے۔ ہدایت اور ضلالت آپس میں متضاد ہیں۔ اس لئے حالت بیداری اور حالت خواب دونوں میں غیر نبی کو نبی کی شکل میں آنے کی قدرت نہیں دی گئی تاکہ ہدایت اور ضلالت میں اشتباہ نہ  ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کے دعویٰ کے علاوہ کوئی اور دعویٰ کرے تو اس سے خرق عادت امور کا صدور ہوتا رہتا ہے لیکن جونہی دعویٰ نبوت کرے تو خرق عادت امور اس سے سلب کر لئے جاتے ہیں۔ عالَم خواب میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں آنے کی شیطان کو قدرت نہیں دی گئی تاکہ بیداری کی طرح خواب میں بھی حق و باطل کے درمیان اشتباہ سے حفاظت رہے۔

حق تعالیٰ شانہ کی حیثیت سے شیطان کا ظاہر ہونا اس لئے ممکن ہے کہ یہاں حق و باطل کا اشتباہ نہیں ہوتا۔ شیطان جب حق تعالیٰ شانہ کی حیثیت میں ظاہر ہو گا تو لا محالہ کسی صورت میں ظاہر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ جسم، صورت اور کیفیات سے پاک ہے۔ شیطان کا خواب میں آ کر الوہیت کا دعویٰ کرنا صریح البطلان ہو گا  اور خواب دیکھنے والا شخص خود ہی سمجھ لے گا کہ یہ حق تعالیٰ شانہ نہیں ہے۔ اس لیے اس امر کو ممکن رکھا گیا۔

2:       اللہ تعالیٰ کی ذات ہادی اور مضل ہے جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ”ہادی“ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بندوں کے لئے بطورِ امتحان ایسے امور کا اظہار ہو سکتا ہے جو بطورِ امتحان؛ اِضلال کے قبیل سے ہوں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ہدایت دینے والے امور ہی کا اظہار ہو گا۔ شیطان میں اضلال کا مادہ رکھا گیا ہے اس لیے وہ حق تعالیٰ شانہ کی حیثیت میں آسکتا ہے جس سے مقصود بندے کا امتحان ہی ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ عالَم بیداری میں بھی اگر کوئی شخص دعویٰ الوہیت کرے تو اس سے خارقِ عادت امور  کو ختم نہیں کیا جاتا بلکہ باقی رکھا جاتا ہے۔دجال جو دعویٰ الوہیت کرے گا تو اس وقت اس کے خوارق کو باقی رکھا جائے گا تاکہ لوگوں کا امتحان ہو کہ لوگ خوارق دیکھ کر اسے اِلٰہ  سمجھتے ہیں یا مخلوق ہو کر الوہیت کا دعویٰ کرنے پر اسے باطل جانتے ہیں۔ یہی معاملہ خواب میں حق تعالیٰ کی حیثیت سے آنے کا ہے۔

معروف عالم امام محمد علی بن محمد بن علان بن ابراہیم البكری الصدیقی الشافعی (ت1057ھ) لکھتے ہیں:

فإن من مقتضى مقامات رسالته ودعوته الخلق إلى الحق أن يكون الأظهر فيه … صفة الهداية والاسم الهادي، فهو صورة الاسم الهادي ومظهر صفة الهادي، والشيطان مظهر اسم المضلّ والظاهر صفة الضلالة فهما ضدان ولا يظهر أحدهما بصفة الآخر، فالنبي خلقه اللّه للهداية، فلو ساغ لإبليس التمثل بها لزال الاعتماد بكل ما يبديه الحق ويظهره لمن يشاء هدايته، فلذلك عصم اللّه صورة النبي من أن يظهر بها شيطان، وإنما لم يمنع الشيطان من مثل ذلك في حضرة الحق وهو أعظم عظماً وجلالاً، فقد وقع أنه أضلّ قوماً بقوله أنا اللّه، فظنوا أنهم رأوا الحق وسمعوا خطابه، لأن كل ذي عقل يعلم استحالة الصورة في حقه تعالٰى فلا يحصل الاشتباه من صورة إبليس بصورته.

 (دليل الفالحین لطرق ریاض الصالحین: ج6 ص132)

ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقامِ رسالت اور مخلوق کو دعوت دینے کا تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں صفتِ ہدایت کا اظہار بھی کامل درجے کا ہو اور آپ کا نام ہادی  بھی مکمل طور پر واضح ہو۔ یہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھے جانے کی حالت میں) صورت بھی آپ کی ہو اور صفتِ  ہدایت کا اظہار بھی آپ ہی کی جانب سے ہو۔  جہاں تک شیطان کا تعلق ہے تو اس کا نام ہی گمراہی پھیلانے والا اور اس کی شکل و صورت بھی گمراہ کن ہے۔ تو یہ دونوں باہم متضاد ہیں۔ اس لیے ایک صفت کا حامل دوسری صفت کے ساتھ ظاہر نہیں ہو سکتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لئے پیدا کیا ہے۔ اگر ابلیس کو یہ قدرت دے دی جائے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں آ سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ جس ہدایت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو اس پر لانا چاہتے ہیں اس سے اعتماد اٹھ جائے گا۔  اس لئے اللہ تعالیٰ نے شیطان کو یہ طاقت نہیں دی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں ظاہر ہو سکے۔ ہاں شیطان سے یہ طاقت سلب نہیں کی گئی کہ وہ حق تعالیٰ شانہ کی صورت میں نہ آ سکے-  حالانکہ اللہ تعالیٰ عظمت و جلال میں عظیم تر ہے اور ایسا ہوا بھی ہے کہ شیطان نے کئی لوگوں کو یہ کہہ کر بہکایا کہ میں اللہ ہوں اور لوگوں نے یقین بھی کر لیا کہ ہم نے اللہ کو دیکھا جائے اور اس کے کلام کو سنا ہے- اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر صاحبِ عقل کو معلوم ہے کہ کوئی شخص بھی اللہ تعالیٰ کی شکل میں نہیں آ سکتا۔ اس لیے ابلیس کے آنے کی صورت میں اشتباہ نہیں ہو گا  (بلکہ واضح ہو گا کہ یہ غیر اللہ ہے)

موصوف  مزید لکھتے ہیں:

ولأن مقتضى حكم الحق أن يضل وأن يهدي بخلاف النبي فهو مقيد بوصف الهداية وظاهر بصورتها فوجب عصمة صورته أن يظهر بها شيطان لبقاء الاعتماد.

 (دليل الفالحین لطرق ریاض الصالحین: ج6 ص132)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا اِضلال (گمراہ کرنا) اور اِہداء (راہ راست دکھانا)  دونوں ہیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف ہدایت دے سکتے ہیں اور ہادی کی شکل میں ہی ظاہر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کو شیطان کی شکل کی آمیزش سے محفوظ رکھنا  ضروری ہے تاکہ اعتماد کی فضاء بحال رہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved