• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

معراج کے موقع پر نمازیں بار بار کم کروانے میں حکمتیں

استفتاء

استاذ جی! ایک لبرل شخص میرے تعلق میں ہے جس نے ہمارے علاقے کے کئی لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے۔ اس شخص نے اعتراض کیا ہے کہ نبی علیہ السلام جب معراج پر گئے تو اللہ تعالیٰ نے  پانچ پانچ  کر کے نمازیں کیوں کم کیں اور اپنے نبی علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کہنے پر، جو مخلوق ہے نَو بار آنے جانے کی زحمت کیوں کروائی جبکہ اللہ تعالیٰ تو عالم الغیب ہے۔ اللہ تعالیٰ کو تو معلوم ہونا چاہیے کہ آخر میں صرف  پانچ نمازیں ہی دی جائیں گی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پہلے سے معلوم تھا کہ نماز پانچ ہی ہوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات اور  بار بار نمازیں کم کروانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کی وجہ چند حکمتیں ہیں:

(1):    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے حضور میں بار بار حاضری اور ہم کلامی کا موقع نصیب ہو۔

(2):    اللہ تعالیٰ کو  اس بات کا اظہار کرنا مقصود تھا کہ میرے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت سے محبت اور شفقت بہت زیادہ ہے کہ ان کی سہولت کے لیے بار بار سفارش کر رہے ہیں۔

(3):    اس سے امت کو یہ تنبیہ کرنا مقصود تھا کہ امت ان پانچ نمازوں کا اہتمام کرے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے پچاس نمازوں کو اپنی سفارش سے پانچ کروایا ہے تو امت کو ان کا حد درجہ اہتمام کرنا چاہیے۔ اگر نمازیں پچاس ہی ہوتیں تو ادائیگی مشکل ہو جاتی۔تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر احسان ہے اور احسان کے پیشِ نظر حکم بجا لانا احسان مند لوگوں کا شیوہ ہے۔

(4):    اللہ تعالیٰ کو یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ میرے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش میرے ہاں مقبول ہے ۔

(5):    حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے  کم لیکن تجربہ زیادہ تھا۔ تو ان کے کہنے پر جانا اور نمازوں کی کمی کی سفارش کرنا دراصل یہ بتانے کے لیے تھا کہ بڑے مقام و مرتبہ کا مالک اپنے سے کم مرتبے والے شخص کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں۔

ان حکمتوں کا اظہار  اسی صورت ممکن تھا کہ جب بار بار آمد ورفت ہو!

© Copyright 2025, All Rights Reserved