- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
جب ہم اہل بدعت سے کہتے ہیں کہ ”تیجہ“، ”چالیسواں“ اور ”مروجہ سلام“ وغیرہ یہ سب بدعت ہیں تواہل بدعت جواب میں ہم سے کہتے ہیں کہ آپ کے اکابرین نے تبلیغ کی جو ترتیب نکالی ہیں یعنی چلہ، چار ماہ اور سہ روزہ وغیرہ تو یہ رواج بھی قرونِ ثلاثہ میں نہیں تھا۔ لہذا تم بھی تو بدعت کر رہے ہو!
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[۱]: شریعت میں کسی چیز کا ”التزام“ کرنا تو درست نہیں البتہ”اہتمام“ کرنا درست ہے۔
”التزام“….. کا معنی کہ کسی کام کو ایسی پابندی سے کرنا کہ اگر کوئی اسے نہ کرے تو اسے ملامت کی جائے اور معاذ اللہ اسے اھل السنۃ والجماعۃ تو کجا دین سے بھی خارج کر دیا جائے۔
”اہتمام“….. کا معنی کہ کسی کام کی پابندی کی جائے لیکن وہ پابندی ایسی ہو کہ اگر کوئی اس کام کو نہیں کرتا تو اسے ملامت نہ کی جائے اور اسے دین کا دشمن قرار نہ دیا جائے۔
اصلاحِ معاشرہ اور انفرادی واجتماعی زندگی کی درستی کے لیے چلہ، چار ماہ اور سہ روزہ وغیرہ کی ترتیب ہم ”اہتمام“ کے درجے میں کرتے ہیں اور اہلِ بدعت ”تیجہ“، ”چالیسواں“ اور ”مروجہ سلام“ وغیرہ ”التزام“ کے درجے میں کرتے ہیں اور نہ کرنے والوں کو خدا جانے کیا کیا القابات دیتے ہیں۔ اس لیے ہمارے اعمال تو درست ہیں لیکن اہلِ بدعت کے افعال درست نہیں!
[۲]: اہلِ بدعت کی ان رسومات کو فقہائے کرام نے صراحتاً بدعت اور ناجائز لکھا ہے جبکہ تبلیغ دین کی ہماری سعی کو بدعت نہیں کہا گیا بلکہ دیکھا جائے تو یہ ترتیب محمود ہے۔
ملا علی بن سلطان محمد القاری الھروی الحنفی (ت1014ھ) فرماتے ہیں:
قَرَّرَهُ أَصْحَابُ مَذْهَبِنَا مِنْ أَنَّهُ يُكْرَهُ اتِّخَاذُ الطَّعَامِ فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ أَوِ الثَّالِثِ، أَوْ بَعْدَ الْأُسْبُوعِ.
(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح: تحت رقم الحدیث 5942)
ترجمہ: ہمارے مذہب (حنفی) کے فقہائے کرام نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ میت کے پہلے اور تیسے اسی طرح ہفتہ کے بعد کھانا تیار کرنا مکروہ ہے۔
علامہ محمد امین بن عمر بن ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
وَيُكْرَهُ اتِّخَاذُ الضِّيَافَةِ مِنْ الطَّعَامِ مِنْ أَهْلِ الْمَيِّتِ لِأَنَّهُ شُرِعَ فِي السُّرُورِ لَا فِي الشُّرُورِ ، وَهِيَ بِدْعَةٌ مُسْتَقْبَحَة.
(رد المحتار مع الدر المختار: ج 3ص 175 باب صلاۃ الجنازۃ)
ترجمہ:میت کے گھر کھانے کی دعوت کھانا مکروہ ہے کیونکہ طعام نوشی خوشی کے موقع پر ہوتی ہے نہ کہ غمی کے موقع پر اور یہ نہایت قبیح بدعت ہے۔
اس لیے تیجہ، ساتوں سب ناجائز اور تبلیغ دین کی ترتیبات جائز ہوں گی۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved