• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کونڈوں کی رسم کا حکم مع فضائل حضرت امیر معاویہ وامام جعفر صادق

استفتاء

حضرت اقدس سے ایک اہم مسئلہ کے بارے میں وضاحت مطلوب ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ 22 رجب المرجب اور اس کے کونڈوں  کی کیا اصل ہے؟ نیز حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کون ہیں ؟ اور امام جعفر صادق علیہ الرحمۃ کے بارے میں بھی بتائیں کہ وہ کون ہیں اور کن کی اولاد میں سے ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

[۱]:          کونڈں کی رسم سن 1906ء میں ہندوستان کے شمالی علاقہ ”اودھ“ میں شروع ہوئی۔ پھر لکھنو اور رام پور کے نوابوں نے اس رسمِ بد کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ سن 1906ء سے قبل اس رسم کا نام ونشان تک نہ تھا۔ اس رسم کو ایجاد کرنے کی غرض صحابی رسول کاتبِ وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر خوشی منانا تھا کیونکہ ان کی وفات 22 رجب المرجب سن 60 ہجری میں ہوئی تھی۔  رسم ایجاد کرنے والوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنے دلی تعصب کو چھپانے کے لیے اس رسم پر امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ  کی پیدائش کی خوشی کا عنوان چسپاں کیا تاکہ سادہ لوح سنی مسلمانوں کو اس کی حقیقت کا علم نہ ہوسکے حالانکہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ   کے یوم ولادت (8 رمضان المبارک) کے ساتھ اس رسم کا دور دور کا تعلق نہیں۔ اس لیے جو جو مسلمان اس رسم میں ملوث ہوں یا انجانے میں اسے کرتے آئے ہوں ان پر لازم ہے کہ اس رسم  کو ترک کریں اور خدا کے حضور توبہ  واستغفار کریں۔

[۲]:          حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ کی ہمشیرہ  ام حبیبہ  رَمْلہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ  تھیں۔ اس نسبت سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ”خال المومنین“ یعنی ”مومنوں کا ماموں“ بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کا شمار ان خوش نصیب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے جنہیں قرآن کریم کی کتابت کا اعزاز نصیب ہوا۔ آپ بہت عظیم انسان تھے۔ آپ کے فضائل ومناقب کئی ایک احادیث میں موجود ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان مبا ر ک الفا ظ میں آپ کے لیے دعا فر ما ئی:

اَللّٰہُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِیَۃَ الْکِتَابَ وَالْحِسَا بَ وَقِہِ الْعَذَا بَ .

(مسند احمد :ج4ص127رقم الحدیث 17192)

تر جمہ : یا اللہ! معا ویہ  کو حسا ب کتا ب سکھا دے  اور برے عذا ب سے ان کو محفو ظ رکھ۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے علم اور سخا وت کے با رے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کا یہ ارشاد مبارک ہے:

مُعَا وِیَۃُ بْنُ اَبِیْ سُفْیَا نَ اَحْلَمُ اُمَّتِی وَاَجْوَدُ ھَا .

( الفردوس بما ثور الخطاب للدیلمی:ج1ص438:رقم الحدیث :1787)

تر جمہ:معاویہ بن ابی سفیا ن میری امت میں سب سے زیا دہ حلیم اور سخی ہیں۔

آپ رضی اللہ عنہ کی وفات ماہ رجب سن 60 ہجری میں ہوئی، مشہور قول کے مطابق تاریخ 22 رجب المرجب تھی۔ رضی اللہ عنہ

[۳]:          امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کا پورا نام ”جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم“ ہے۔ آپ رحمہ اللہ کی والدہ حضرت ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر؛ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پڑپوتی اور آپ کی نانی اسماء بنت عبد الرحمٰن بن ابی بکر ؛ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پوتی تھیں۔ اس نسبت کے پیشِ نظر امام جعفر صادق رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ”وَلَدَنِیْ اَبُوْ بَکْرٍ مَرَّتَیْنِ“ کہ مجھے ابو بکر صدیق نے دو بار جنم دیا ہے یعنی میری ولادت میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خون کا دوہرا حصہ شامل ہے۔ آپ کی پیدائش مشہور قول کے مطابق 8 رمضان المبارک 80 یا 83 ہجری میں ہوئی اور وفات ماہِ شوال 148ہجری میں ہوئی۔ رحمہ اللہ تعالیٰ

© Copyright 2025, All Rights Reserved