- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک غیر مقلد احناف کے عقیدے پر اعتراض یہ کرتا ہے کہ آپ کے مسلک کے بہت بڑے امام جن کو آپ ”امام طحاوی رحمہ اللہ“ کہہ کر یاد کرتے ہیں انہوں نے اپنی کتاب ”عقیدة طحاویہ“ میں یہ لکھا ہے :
”اللہ کی ذات ایسی ہے کہ نہ اس کا ادراک عقل کر سکتی ہے، نہ اوہام اس تک پہنچ سکتے ہیں۔“
اور دوسری طرف احناف یہ کہتے ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کو خواب میں 100 مرتبہ دیکھا ہے۔ تو اس پر وہ یہ اعتراض کرتا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ذات تک اس کا وہم تو پہنچ ہی گیا۔ پھر امام طحاوی رحمہ اللہ کا یہ کہنا کہ اس کی ذات تک اوہام نہیں پہنچ سکتے یہ کیسے درست ہو گا؟ مفصل جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1): اس غیر مقلد سے پوچھیں کہ صحیح البخاری میں یہ حدیث مبارک موجود ہے:
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقَالَ: “أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هٰذَا لَا تُضَامُّوْنَ فِي رُؤْيَتِهٖ”.
(صحیح البخاری: رقم الحدیث 573)
ترجمہ: حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ علیہ السلام نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا: تم اپنے رب کو ایسے دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو، اس کے نور و جمال کو دیکھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے گی۔
اس حدیث مبارک میں اہل ایمان کے لئے اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے کا تذکرہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا دیدار ممکن نہیں تو اس حدیث کے بارے میں اس غیر مقلد کا کیا موقف ہے؟ ذرا اس سے وضاحت پوچھیں!
(2): اصل بات یہ ہے کہ عالَم بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں۔ عالَم دنیا میں سَر کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کا دیدار ممکن نہیں۔ ہاں جب عالم بدل جائے جیسے عالَم آخرت ہے یا عالَم خواب ہے تو اب اللہ تعالیٰ کا دیدار ممکن ہےلیکن عالَم دنیا اور عالَم خواب میں بھی اللہ تعالیٰ کی زیارت کے وقت اس کی حقیقت اور ذات کا ادراک اور احاطہ نہیں ہوتا بلکہ بغیر احاطہ، بغیر احاطہ اور بغیر کسی کیفیت کے دیدار ہوتا ہے۔ اس لیے اہلِ جنت جب اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں تو وہ بغیر احاطہ، بغیر احاطہ اور بغیر کسی کیفیت کے ہو گا اسی طرح امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے جو خواب میں دیدار کیا تو یہ دیدار بھی بغیر احاطہ، بغیر احاطہ اور بغیر کسی کیفیت کے تھا۔
اس لیے امام طحاوی رحمہ اللہ کی عبارت اور امام اعظم رحمہ اللہ کے خواب والے واقعہ میں کوئی تضاد نہیں۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved