• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

میچ جیتنے کی خوشی میں سجدہ کرنے کا حکم

استفتاء

کیا بغیر وضو کے کسی خوشی کے موقع پر سجدہ کر سکتے ہیں جیسے ہمارے کرکٹرز میچ جیتنے کے موقع پر سجدہ کرتے ہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

خوشی کے مختلف مواقع مثلاً نعمت ملنے، اولاد پیدا ہونے، مال ودولت عطا ہونے، گم شدہ چیز واپس ملنے وغیرہ پر شکرانے کے طور پر سجدہ کرنا جائز بلکہ مستحب ہے۔ البتہ چونکہ یہ سجدہ ایک نفلی عبادت ہے اس لئے اس کے لئے بھی وہی شرائط ہیں جو نفلی عبادت کی ہوتی ہیں جیسے بدن اور کپڑوں کا پاک ہونا، مکروہ وقت کا نہ ہونا، باوضو ہونا، قبلہ کی طرف رخ ہونا ۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

مَنْ تَجَدَّدَتْ عِنْدَهُ نِعْمَةٌ ظَاهِرَةٌ أَوْ رَزَقَهُ اللَّهُ تَعَالٰى وَلَدًا أَوْ مَالًا أَوْ وَجَدَ ضَالَّةً أَوِ انْدَفَعَتْ عَنْهُ نِقْمَةٌ أَوْ شُفِيَ مَرِيضٌ لَهٗ أَوْ قَدِمَ لَهٗ غَائِبٌ يُسْتَحَبُّ لَهٗ أَنْ يَسْجُدَ شُكْرًا لِلهِ تَعَالٰى مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ يَحْمَدُ اللهَ فيها وَيُسَبِّحُهُ ثُمَّ يُكَبِّرُ أُخْرٰى فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ كَمَا فِيْ سَجْدَةِ التِّلَاوَةِ.

(فتاویٰ عالمگیری: ج1 ص136)

ترجمہ: جس شخص کو کوئی ظاہری نعمت ملے یا اللہ تعالیٰ اسے اولاد سے نوازے یا مال سے نوازے یا وہ شخص اپنی گمشدہ چیز کو پا لے یا کوئی مصیبت دور ہو جائے یا کوئی مریض تندرست ہو جائے یا کوئی  شخص واپس آ جائے تو اس کے لیے مستحب ہے کہ قبلہ رخ ہو کر سجدہ شکر بجا لائے۔ اس میں اللہ کی تعریف کرے، تسبیح کرے ، پھر تکبیر کہتے ہوئے اپنا سر اٹھا لے جس طرح سجدہ تلاوت میں کیا جاتا ہے۔

اور سجدہ تلاوت کی شرائط وہی ہیں جو نماز کی ہیں۔

وَشَرَائِطُ هذه السَّجْدَةِ شَرَائِطُ الصَّلَاةِ إلَّا التَّحْرِيمَةَ.

(فتاویٰ عالمگیری: ج1 ص135)

ترجمہ:  اس سجدہ (تلاوت)  کی شرائط وہی ہیں جو نماز کی شرائط ہیں سوائے تکبیر تحریمہ کے۔(یعنی تکبیر تحریمہ نماز میں فرض ہے لیکن سجدہ تلاوت میں فرض نہیں)

میچ وغیرہ کے موقع پر کرکٹرز جو سجدہ کرتے ہیں تو یہ سجدہ جذبات سے مغلوب ہو کر کیا کرتے ہیں۔اس لیے اسے حقیقی نفلی سجدہ نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی اس پر نفلی سجدہ کے احکام لاگو ہوں گے۔ ایسے مواقع پر اگر جذبات قابو میں نہ ہوں اور کسی نے بغیر وضو کے اور قبلہ رخ کا خیال کئے بغیر سجدہ کر لیا تو اس کی گنجائش ہو گی کیونکہ اس نے حقیقی سجدہ نہیں کیا کہ اس پر سجدہ کی شرائط لاگو کی جائیں۔ ہاں اگر یہ شخص جذبات سے بے قابو نہیں ہوا اور شکرانے کا سجدہ کرنا چاہتا ہے تو اب سجدہ کرنے کے لیے وضو، بدن وکپڑوں کا پاک ہونا، صحیح اوقات کا ہونا اور قبلہ رخ ہونا ضروری ہو گا۔ اس صورت میں ان شرائط کا لحاظ کیے بغیر سجدہ کرنا درست نہیں ہو گا۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved