- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عوام میں یہ دو واقعات اور روایات کافی زیادہ مشہورہیں کہ:
1: ایک بڑھیا ہر روز حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر کچرا پھینکتی تھی۔ ایک روز کچرا نہیں پھینکا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا تو معلوم ہوا کہ وہ بڑھیا بیمار پڑ گئی ہیں۔ چنانچہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی عیادت کی۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حسنِ اخلاق سے متأثر ہو کر اس بڑھیا نے اسلام قبول کر لیا۔
2: ایک بوڑھی عورت گٹھڑی یعنی کچھ سامان اٹھائے جا رہی تھی تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے دیکھا تو اس کی مدد کی غرض سے اس سے گٹھڑی لے کر اس کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب منزل پر پہنچے تو بڑھیا نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ مکہ میں محمد نامی ایک شخص ہے جو لوگوں کو اپنے آباء واجداد کے دین سے ہٹاتے ہوئے ایک نئے دین کی طرف دعوت دیتا ہے۔ تم اس سے بچتے رہنا! تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر بڑھیا سے فرمایا کہ وہ محمد تو میں ہی ہوں۔ تو وہ بڑھیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حسنِ اخلاق سے بہت متأثر ہوئی اور اس نے ایمان قبول کر لیا۔
یہ دونوں واقعات مختلف الفاظ کے ساتھ عوام میں رائج ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں واقعات احادیث کی کتب سے ثابت ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ دونوں واقعات محض عوام میں معروف ہیں۔ احادیث و سیرت مبارکہ کی کسی کتاب میں یہ واقعات نہیں ملے۔ اس لیے تحقیق یہی ہے کہ یہ موضوع و من گھڑت ہیں۔ انہیں بیان کرنے سے احتراز لازم ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved