• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

قسطوں پر خریدی گئی دکان کی قسطیں ابھی باقی ہوں تو اسے کرایہ پر دینے کا حکم

استفتاء

حضرت! میں نے ایک دکان  خریدی ہے جو کہ انسٹالمنٹ پر ہے۔ اس دکان کی میں نے ابھی تک پوری قیمت ادا  نہیں کی ہے لیکن  بلڈنگ کمپنی والے جنوری سے  مجھے مہینے کے مہینے کرایہ  دینا شروع کر دیں گے۔  کیا  یہ کرایا  لینا جائز ہے؟ دکان جنوری میں تیار ہو جائے گی ۔

مہربانی فرما کر  دونوں صورتوں میں بتا دیں اگر  بلڈنگ کمپنی خود کرائے پر لیتی ہے یا کسی اور کو کرائے پر دیتی ہے!  جزاک اللہ خیراً

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

دکان کے مالک سے جب آپ کا خریداری کا معاملہ مکمل ہو چکا ہے تو آپ دکان کے مالک بن چکے ہیں۔ اب دکان  خود استعمال کرنا چاہیں یا کسی کو کرائے پر دینا چاہیں دونوں صورتیں آپ کے لئے جائز ہیں۔  مالک بننے کے لیے معاہدہ مکمل ہونا ضروری ہے، پوری قیمت ادا نہ  کرنے کی وجہ سے مالک بننے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چنانچہ جنوری سے جب دکان تیار ہو گی تو بلڈنگ کمپنی کو کرائے پر دینا اور ماہانہ کرایہ وصول کرنا بالکل جائز ہو گا۔

بلڈنگ کمپنی دکان خود رکھے یا آگے کسی اور کو کرایہ پر دے دونوں صورتوں میں آپ کے لیے کرایہ وصول کرنا درست ہو گا۔ البتہ بلڈنگ کمپنی اگر آگے کسی کو کرائے پر دیتی ہے تو اگر نئے کرایہ دار سے وہی کرایہ وصول کرتی ہے جو آپ کے ساتھ طے ہوا تھا تب تو درست ہے۔ اگر آپ کے ساتھ طے شدہ کرایہ سے زائد وصول کرے تو اس کمپنی کے لیے زائد رقم حلال نہ ہو گی۔ہاں! اگر اس کمپنی نے اس دکان میں کوئی اضافی کام اپنے اخراجات پر کروایا ہو مثلاً ٹائل لگا دی ہو،  الماریاں بنا دی ہوں یا کوئی اور تعمیری کام کروا کے دیا ہو تو اس صورت میں پہلے کرایہ سے زائد کرایہ وصول کرنا درست ہو گا۔ یہ معاملہ کمپنی اور اگلے کرایہ دار کے مابین ہے، آپ کے لیے کرایہ بہر صورت درست ہے کیونکہ آپ کا معاہدہ کمپنی کے ساتھ ہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved