• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

قرآنی الفاظ کو سکول، اکیڈمی وغیرہ کے لیے بطور نام استعمال کرنے کا حکم

استفتاء

عرض یہ ہے کہ قرآنی آیات غیر مقدس مقامات کے لئے بطور نام استعمال کرنا کیسا ہے؟  مثلاً ”اقرء پبلک سکول“  اس میں ”اقرء“ قرآن کی آیت کا حصہ ہے۔ اسی طرح مثلاً ”القلم اکیڈمی“ تو ”القلم“ بهی قرآن کی آیت کا حصہ ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ان الفاظ کا سکول اور اکیڈمی کے لیے استعمال درست ہے۔ جس طرح قرآن میں مذکور انبیاء اور صلحاء کے نام پر اپنی اولاد کے نام رکھنا بالکل درست ہے حالانکہ آج کل کے افراد ؛ انبیاء اور صلحاء کے مقابلے میں کم درجہ رکھتے ہیں لیکن نام رکھنے والے کا مقصد تبرک کا حصول ہے۔ اسی طرح القلم، اقرء وغیرہ جیسے الفاظ بھی  سکول اور اکیڈمی کے لیے بطور تبرک رکھے جاتے ہیں، اس لیے ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved