- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
مجھے نفاس سے متعلق ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے۔ رمضان المبارک سے تین یا چار دن پہلے میرے ہاں مردہ بچے کی ولادت ہوئی۔ یہ ولادت پانچویں مہینے میں ہوئی تھی۔ جب رمضان کے 12 دن گزر گئے تو خون مکمل طور پر رک گیا۔ میں نے پاک ہو کر روزے رکھنا شروع کر دیے۔ میں نے پورے 17 روزے رکھے تھے کیونکہ اس بار رمضان المبارک 29 دنوں کا تھا۔
جب بچے کی ولادت کو 39 دن گزر گئے اور 40 دن گزرنے میں صرف چند گھنٹے باقی تھے تو دوبارہ خون آنا شروع ہو گیا اور اتنے ہی دن آیا جتنے دن میری حیض کی عادت ہے یعنی پانچ دن۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ اس خون کو میں کیا سمجھوں؟ کیونکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ میں نے جو سترہ روزے رکھے تھے کیا وہ صحیح ہوئے یا نہیں؟ نیز جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے پچھلے بچوں کی پیدائش میں میری نفاس کی عادت 20 سے 30 دنوں کی ہوتی تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس حوالے سے درج ذیل احکام سمجھ لیں:
1 : نفاس کا خون اگر چالیس دن کے عرصہ میں وقفے وقفے سے آتا رہے اگرچہ دو خونوں کے درمیان 15 یا 20 دنوں کا وقفہ ہو تب بھی یہی سمجھیں گے کہ یہ خون پورے چالیس دنوں میں جاری رہا ہے۔ آپ کی بیان کردہ صورتحال میں دوسرا خون چالیس دن مکمل ہونے سے پہلے پہلے (یعنی بچے کی پیدائش کے بعد 960 گھنٹوں کے دوران) آیا ہے اور پانچ دن رہا ہے اس لیے یہ کہا جائے گا کہ آپ کا خون مکمل 45 دن جاری رہا ہے۔
2 : پینتالیس دنوں کے خون میں سے آپ کے نفاس کی جو عادت ہے (یعنی اس سے پہلے بچے کی پیدائش پر نفاس کے ایام) مثلاً 20 دن ، تو وہ ایام ان پینتالیس دنوں میں سے نکال لیں۔ یوں آپ کا نفاس 20 دن بنتا ہے اور استحاضہ 25 دن۔
3 : مذکورہ تفصیل کے مطابق روزہ کے احکام یوں ہوں گے:
نفاس (20 دن)
| 4 دن | رمضان سے قبل | روزہ نہیں |
| 12 دن | ابتداء رمضان | قضاء واجب |
| 4 دن | روزہ رکھا لیکن یہ ایام نفاس کے تھے اس لیے شرعاً درست نہ ہوا | قضاء واجب |
بعد کے ایام چونکہ استحاضہ کے تھے اس لیے ان میں روزہ صحیح ہو گیا۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved