- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میرا سوال یہ ہے کہ امام جب نماز سے فارغ ہو جائے تو اگر وہ قبلہ رخ ہوکر دعا مانگتا ہے تو اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے، کوئی گناہ وغیرہ !! رہنمائی فرما دیں ! جزاک اللہ خیرا
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
واضح رہے کہ جن فرائض کے بعد سنن و نوافل نہ ہوں مثلاً فجر اور عصر، تو ان فرائض کے سلام پھیرنے کے بعد امام کے لئے مقتدیوں کی طرف رخ کر کے بیٹھنا مستحب ہے اور جن فرائض کے بعد سنن و نوافل ہوں مثلاً ظہر، مغرب اور عشاء تو ان کی ادائیگی کے بعد امام کے لیے مقتدیوں کی طرف رخ کیے بغیر قبلہ رو ہو کر بیٹھنا مستحب ہے۔ واضح رہے کہ اس عمل کی حیثیت استحباب کی ہے، فرض وواجب کی نہیں۔ اس لیے اگر کسی امام نے نماز سے فارغ ہو کر قبلہ رو ہو کر ہی دعا مانگ لی تو اس میں گناہ نہ ہو گا۔ البتہ فجر اور عصر کی نماز کے بعد مقتدیوں کی طرف رخ کرنے میں مستحب پر عمل کرنا ہے جس کے اچھا عمل ہونے میں کوئی شک نہیں!
© Copyright 2025, All Rights Reserved