- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک لڑکی اپنے والد سے ناراض ہو کر تقریباً چھے ماہ سے اپنے بھائی کے گھر رہ رہی ہے۔ والد اب بھی اس لڑکی سے ناراض ہے۔لڑکی کے چار بھائی ہیں۔ اب بڑا بھائی اپنی بہن کی شادی کرنا چاہتا ہے ۔ لڑائی جھگڑے کا بھی خطرہ ہے کیونکہ والد اپنی بیٹی کی شادی نہیں کرنا چاہتا اور لڑکی کی شادی کی عمر بھی جا رہی ہے ۔ (لڑکی کی عمر فی الوقت 35 سال ہے) اب بھائی؛ اپنے والد کی رضا کے بغیر بہن کی شادی کر سکتا ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرما دیں!
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
لڑکی کا والد بلا وجہ اس کے نکاح میں تاخیر کر کے سخت گناہ گار ہو رہا ہے۔ تاہم چونکہ والد خود موجود ہے اس لیے لڑکی کا ولی خود والد ہی ہے۔ اگر بھائی نے اس لڑکی کا نکاح کسی ایسی جگہ کر دیا جو لڑکی کے لیے غیر موزوں ہو مثلاً لڑکا خاندانی لحاظ سے اس لڑکی کے برابر کا نہ ہو، یا ہو تو لڑکی کے خاندان کا لیکن دیگر چیزوں ؛تعلیم، اخلاق، مال و دولت کے لحاظ سے اس لڑکی سے کم درجہ کا ہو تو ایسی صورت میں چونکہ لڑکی خود عاقلہ بالغہ ہے اس لئے لڑکی کا بھائی لڑکی کا وکیل بن کر اس کا نکاح کرا دے تو شرعاً یہ نکاح منعقد ہو گا لیکن والد کو بحیثیت ولی اس نکاح کو فسخ کروانے کا اختیار ہو گا کہ وہ بذریعہ عدالت نکاح فسخ کروانا چاہے تو کروا سکتا ہے۔ ہاں اگر رشتہ ہر لحاظ سے لڑکی کے لیے موزوں ہو تو اب مذکورہ طریق پر نکاح کروانے سے نکاح منعقد ہو جائے گا اور والد کو فسخ کا اختیار بھی نہ ہو گا۔
بطورِ مشورہ یہ بات کہی جاتی ہے کہ درمیان میں کسی مؤثر واسطہ کو استعمال کر کے والد صاحب سے صلح صفائی کی جائے ، اس کے بعد نکاح کر لیا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔
علامہ محمد امین ابن عابدین شامی الحنفی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
يُقَدَّمُ الْأَبُ ، ثُمَّ أَبُوهُ ، ثُمَّ الْأَخُ الشَّقِيقُ.
(رد المحتار مع الدر المختار: ج9 ص409)
ترجمہ: لڑکی کے نکاح کا ولی اس کا والد ہو گا، وہ نہ ہو تو لڑکی کا داد ہو گا، وہ نہ ہو تو لڑکی کا حقیقی بھائی ہو گا۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved