• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

نکاح کے بعد اور رخصتی سے پہلے منکوحہ سے بات چیت کرنے کاحکم

استفتاء

حضرت! نکاح کے بعد لیکن رخصتی سے پہلے لڑکا اور لڑکی کا آپس میں بات کرنا کیسا ہے؟ (میسج کے ذریعے سے )

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

نکاح کے بعد لڑکے لڑکی میں اجنبیت ختم ہو جاتی ہے اور وہ  خاوند بیوی بن جاتے ہیں۔ اس لیے ان کا بات چیت کرنا اور رابطہ رکھنا جائز ہے۔ البتہ عمومی مشاہدہ میں جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ کہ رخصتی سے قبل اس قسم کا میل ملاپ آپ کی ناچاقی  کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے اولاً تو کوشش کی جائے کہ نکاح کے بعد جلد رخصتی عمل میں لائی جائے۔ اگر رخصتی میں کچھ تاخیر ہو تو اس قسم کا رابطہ نہ ہی رکھا جائے تو بہتر ہے۔  تاہم اگر کوئی اس قسم کا رابطہ قائم رکھتا ہے تو شرعاً کوئی گناہ بھی نہیں۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved