- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک شخص نے اپنی بیوی سے چھپ کر دوسرا نکاح کیا۔ جب پہلی بیوی کو شک ہوا تو اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ آپ نے دوسری جگہ نکاح کیا ہے! شوہر نے انکار کیا۔ تو بیوی نے شوہر سے کہا کہ آپ یہ قسم اٹھاؤ کہ اگر میں نے تمہارے علاوہ کسی اور سے نکاح کیا ہو تو اسے تین طلاق! شوہر یہ الفاظ کہہ دیتا ہے۔ تو کیا ان کلمات کے کہنے سے دوسری بیوی کو تین طلاق ہو جائے گی یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ان الفاظ سے دوسری بیوی کو تین طلاق واقع ہو جائے گی اور وہ خاوند پر بالکل حرام ہو جائے گی۔ حافظ بدر الدین محمود بن احمد بن موسیٰ العینی الحنفی (ت855ھ) لکھتے ہیں:
وإذا قالت المرأة لزوجها: تزوجت علي ! فقال:…. “كل امرأة لي غيرك تزوجتها طالق ثلاثًا“…. فينصرف الطلاق إلى غيرها.
(البنایۃ شرح الہدایۃ: ج6 ص228)
ترجمہ:بیوی نے اپنے شوہر سے کہا: آپ نے میرے علاوہ کسی اور سے بھی نکاح کر رکھا ہے! شوہر نے جواب میں کہا: ”میں نے تمہارے علاوہ اگر کسی اور سے نکاح کیا ہوا ہو تو اسے تین طلاق“ تو اس بیوی کے علاوہ باقی بیویوں طلاق واقع ہو جائے گی۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved