• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

فضائل اعمال میں موجود ایک روایت کی تحقیق

استفتاء

میں فضائل اعمال سے درج ذیل حدیث کے رُواة اور اصل سند کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ اس حدیث کا ترجمہ یوں لکھا ہے:

” رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم سے نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص نماز  کو قضا  کر دے، گو وہ بعد میں پڑھ بھی لے، پھر بھی اپنے وقت پر نماز نہ  پڑھنے کی وجہ سے ایک حُقُب جہنم میں جلے گا  اور حُقُب کی مقدار اَسّی  برس کی  ہوتی ہے اور ایک برس  تین سو ساٹھ دن کا اور  قیامت کا ایک دن ایک ہزار برس کے برابر ہو گا، (اس حساب سے ایک حُقُب کی مقدار  دو کروڑ اٹھاسی لاکھ برس ہوئی)“۔    فضائل اعمال میں یہ روایت کس  کتاب  کے حوالے سے نقل کی گئی  ہے؟ نیز اس روایت کو  حدیث کے طور پر  بیان کر سکتے ہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

فضائل اعمال  کی جس روایت کا آپ نے ترجمہ نقل کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں:

رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلٰوةُ والسَّلامُ قَالَ : مَنْ تَرَكَ الصَّلٰوةَ حَتَّى مَضٰى وَقْتُهَا ثُمَّ قَضٰى عُذِّبَ فِي النَّارِ حُقُبًا. وَالحُقُبُ ثَمَانُونَ سَنَةً ، وَالسَّنَةُ ثَلٰثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ يَومًا ، كُلُّ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُه أَلْفَ سَنَةٍ ۔

چند بزرگانِ دین نے اپنی کتابوں میں   یہ روایت نقل فرمائی ہے، لیکن سند کسی نے نقل نہیں کی، مثلاً:

[1]:   امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد الغزالی  رحمہ اللہ (ت505ھ )نے ان الفاظ سے یہ روایت نقل کی ہے:

            ​ “وقال عليه السلام: من ترك صلاة حتى مضت وقتها، ثم قضاها عذب في النار حقبًا، والحقب ثمانون سنة، كل سنة ثلاث مائة وستون يومًا، كل يوم ألف سنة مما تعدون “.

اس حدیث کی شرح  امام غزالی رحمہ اللہ نے یوں کی ہے:

یعنی ترک الصلوٰۃ الیٰ وقت القضاء اثم، لو عاقب اللہ تعالیٰ بہ یکون جزاءہ ھکذا، ولکن اللہ تعالیٰ یتکرم بأن لا یجازی بہ اذا تاب عنہ:

(مشکوٰۃ الانوار فی لطائف الاخبار من المواعظ و النصائح: الباب الخامس والعشرون فی بیان عقوبۃ ترک الصلوٰۃ:ص 205)

ترجمہ:          یعنی نماز کو قضا کر کے پڑھنا گناہ ہے، اگر اللہ تعالیٰ اس گناہ کی سزا دیناچاہیں تو اس گناہ کی یہی  سزا  (دو کروڑ اٹھاسی لاکھ سال جہنم میں جلنا)بنتی ہے۔  لیکن جب بندہ اس گناہ سے توبہ کر لے  تو اللہ تعالیٰ لطف و کرم کا معاملہ فرما کر یہ سزا نہیں دیں گے۔

[2]: حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمہ اللہ (ت1034 ھ) مکتوبات میں لکھتے ہیں:

و در اخبار آمدہ است کہ کسے کہ یک نماز فرض بعمد قضا کند یک حقبہ او را دوزخ عذاب کنند۔

(مکتوبات امام ربانی، ج 1 ص 484مکتوب نمبر266)

ترجمہ:          روایات میں آیا ہے کہ جس شخص نے کوئی ایک نماز (بِلا عذر) جان بوجھ کرقضا کی اسے ایک حُقُب جہنم میں عذاب ہو گا۔

[3]:   شیخ احمد بن محمد الرومی الحنفی رحمہ اللہ (ت1043 ھ) نے اپنی کتاب ” مجالس الابرار“ میں درج بالا حدیث کو بغیر سند کے نقل کیا ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ  (ت1402ھ) نے اسی ” مجالس الابرار“  سے یہ روایت نقل فرمائی ہے، اور اس روایت کے تحت آپ رحمہ اللہ نے  یہ وضاحت فرما دی ہےکہ یہ روایت مجھے  موجودہ کتبِ احادیث میں نہیں مل سکی، میں نے اسے  ” مجالس الابرار“  سے نقل کیا ہے، چنانچہ آپ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

كذافي مجالس الأبرار قلت: لم اجده فيما عندي من كتب الحديث إلا ان مجالس الأبرار مدحه شيخ مشائخنا الشاه عبد العزيز الدهلوي ۔

                                 (فضائل اعمال: ص237 فضائل نماز باب اول)

ترجمہ:          اسی طرح یہ روایت مجالس الابرار نامی کتاب میں موجود ہے، میں کہتا ہوں کہ: میرے پاس احادیث کی جو کتب میسر و موجود ہیں ان میں مجھے یہ حدیث نہیں مل سکی، مگر میں نے یہ روایت مجالس الابرار سے اس لیے نقل کر دی ہے کہ ہمارے شیخ المشائخ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ نے  اس کتاب کی تعریف و توصیف  فرمائی ہے۔

خلاصہ:        شیخ الحدیث حضرت  مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے مجالس الابرار کے مصنف پر اعتماد کرتے ہوئے اس روایت کو بغیر سند کے ہی نقل فرمادیا۔ ہمیں بھی بہت زیادہ تلا ش کے باوجود اس کی سند نہیں مل سکی، چونکہ اس  روایت کی سند    موجود نہیں ہے، اس لیے  اس کی سند اور رُواۃ کے احوال پر کوئی تحقیق  نہیں کی جا سکتی۔  لہٰذا جب تک کوئی معتبر سند نہ ملے، اس روایت کو حدیثِ   رسول کہہ کر بیان نہ کیا جائے۔تاہم اگر ترہیب کی خاطر تنبیہ اور  پوری وضاحت  کے ساتھ    یہ روایت بیان کی گئی تو ناقل بری الذمہ ہو گا۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved