• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

فضائل اعمال کے متعلق چند سوالات

استفتاء

1:                 کیا فضائلِ اعمال میں شرک ہے؟

2:            کیا فضائلِ اعمال میں بیان کیا ہوا یہ واقعہ صحیح ہے کہ کوئی صحابی ہے جو چالیس سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھا کرتے تھے؟

3:            اور کیا فضائلِ اعمال سے تبلیغ کرنا صحیح ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب ملاحظہ ہوں:

1:            کتاب ”فضائل ِاعمال “ توحید باری تعالیٰ کا پرچار ہے۔ قرآن مجید کی آیات، فرامین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور دیگر بزرگانِ دین کے واقعات سے لبریز اس کتاب میں توحید کی تعلیم دی گئی ہے اور شرک کی بیخ کنی کی گئی ہے۔ سنجیدگی سے اس کا مطالعہ کیا جائے تو ان شاء اللہ بات واضح ہو جائے گی۔

2:            ”فضائل ِاعمال “  میں کسی صحابی کا واقعہ تو نہیں البتہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ موجود ہے کہ وہ چالیس سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھا کرتے تھے۔ یہ واقعہ درست ہے۔ کئی سوانح نگاروں  مثلاً  علامہ  محی الدین یحییٰ  بن شرف النووی ت676ھ (تہذیب الاسماء واللغات: ج2 ص 220)، ابو الحجاج یوسف بن عبد الرحمن المزی ت 742(تہذیب الکمال:ج7 ص343)، علامہ شمس الدین ابو عبد لله محمد بن احمد بن عثمان ذہبی ت748ھ (سیر أعلام النبلاء: ج7 ص400 ) وغیرہ نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔

3:            جی ہاں! فضائل اعمال کے ذریعے تبلیغ کرنا نہ صرف صحیح بلکہ ہمارا عام مشاہدہ ہے کہ نہایت موثر بھی ہے۔ ہزارہا لوگ اس کے ذریعے گمراہی اور نافرمانی کی زندگی سے لوٹ کر حق اور فرمانبرداری کی زندگی کی طرف آئے ہیں۔ اس لئے اس کتاب کا مطالعہ بھی رکھنا چاہیے اور اس کے ذریعہ تعلیم اور تبلیغ بھی کرنی چاہیے۔

نوٹ:

بعض لوگ ”فضائل اعمال“ پر بلا وجہ اور بغیر دلیل کے اعتراضات کرتے ہیں۔ بندہ نے ان اعتراضات کے جواب میں ایک کتاب لکھی ہے ” فضائل اعمال  پر اعتراضات کا علمی جائزہ“۔ اس کا مطالعہ فرمائیں تو ان لوگوں کے اعتراضات کی حقیقت بھی واضح ہو جائے گی۔ کتاب Pdf شکل میں آپ کو بھیجی جا رہی ہے۔

 

© Copyright 2025, All Rights Reserved